مریم نواز اور اسپیکر ملک احمد خان میں اختلافات کی کہانی؟ برف کیسے پگھلی
متنازع بل، تحریک استحقاق اور سوشل میڈیا پر دعوؤں نے معاملات خراب کردیئے
صوبہ پنجاب کی سیاست میں حالیہ دنوں میں اس وقت شدید ہلچل دیکھنے میں آئی جب وزیر اعلیٰ مریم نواز اور اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کے درمیان مبینہ اختلافات کی خبریں میڈیا اور سیاسی حلقوں کی زینت بنیں۔ دونوں رہنماؤں کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور دونوں ہی صوبے کی سیاست اور حکومت میں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ اس لیے ان کے درمیان پیدا ہونے والی مبینہ کشیدگی نے کئی سیاسی سوالات کو جنم دیا۔
وزیراعلیٰ اور اسپیکر کی حالیہ ملاقات کے بعد ان اختلافات کے خاتمے کا تاثر دیا جا رہا ہے لیکن یہ معاملہ ہے کیا اور خبروں کی زینت کیسے بنا۔
یہ تنازع اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے چند انتظامی اور قانون سازی سے جڑے معاملات تھے، جن پر دونوں آئینی عہدیداروں کے درمیان تحفظات پائے جاتے تھے۔
مبینہ اختلافات کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ‘پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈر بل 2026’ بنا۔ اسپیکر ملک محمد احمد خان کی عدم موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر نے اس بل پر دستخط کیے اور اسے منظور کرانے کی کوشش کی تھی۔ اسپیکر نے اس بل کے طریقہ کار، قانونی اور آئینی پہلوؤں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا موقف تھا کہ قانون سازی میں جلد بازی نہیں ہونی چاہیے اور تمام آئینی تقاضے پورے کیے جانے چاہئیں، جس پر انہوں نے بل پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کی۔
دوسرا بڑا تنازع ضلع قصور کے ایک ڈی پی او (DPO) کے خلاف اسمبلی میں پیش ہونے والی تحریکِ استحقاق پر پیدا ہوا۔ اسپیکر اسمبلی کے تقدس اور ارکانِ اسمبلی کے استحقاق پر سمجھوتہ نہ کرنے کے سخت موقف پر قائم تھے۔ دوسری طرف، صوبائی حکومت (خصوصاً سینئر وزیر مریم اورنگزیب) کی جانب سے اسپیکر سے درخواست کی گئی کہ وہ بیوروکریسی اور پولیس کے ساتھ معاملات کو تلخی سے بچانے کے لیے اس تحریک کو واپس لیں یا اس پر نرمی برتیں، جس پر دونوں فریقین میں کھنچاؤ پیدا ہوا۔
اس دوران سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن) کی رکنِ اسمبلی حنا پرویز بٹ کی جانب سے کچھ ایسی پوسٹس اور طنزیہ مواد سامنے آیا جسے اسپیکر کے خلاف مہم کے طور پر دیکھا گیا۔ اسپیکر ملک محمد احمد خان نے اس پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ صورتحال کو بگڑتا دیکھ کر مریم اورنگزیب اور دیگر صوبائی وزراء نے اسپیکر سے ملاقاتیں کیں تاکہ حکومت اور اسمبلی کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔
تاہم یکم جولائی 2026 کو وزیر اعلیٰ مریم نواز اور اسپیکر ملک محمد احمد خان کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کی تفصیلی ملاقات ہوئی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام انتظامی اور قانون سازی کے معاملات پر کھل کر بات چیت کی اور عزم ظاہر کیا کہ حکومت اور اسمبلی مل کر صوبے کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔ مریم نواز نے پنجاب اسمبلی کے سیشنز کو مروجہ آئینی قوانین کے تحت چلانے پر ملک محمد احمد خان کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ اسپیکر ملک محمد احمد خان نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حالیہ عوامی فلاحی منصوبوں، بالخصوص پنجاب میں الیکٹرک بسوں کے منصوبے اور دیگر ترقیاتی اقدامات کی کھل کر تعریف کی اور حکومت کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔