اسلام آباد: شہری کو یرغمال بنا کر تشدد اور بھتہ وصولی ، مرکزی ملزم گرفتار

مجسٹریٹ کے مبینہ پرائیویٹ ڈرائیور اور ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج ،دو مبینہ ساتھی تاحال مفرور

July 3, 2026 · اہم خبریں, قومی
گرفتار ملزم اسامہ

گرفتار ملزم اسامہ

اسلام آباد: وقاص منیر چوہدری : ضلعی انتظامیہ کے مجسٹریٹ کے مبینہ پرائیویٹ ڈرائیور اور ساتھیوں کے خلاف شہری کو غیر قانونی طور پر یرغمال بنا کر تشدد کرنے، خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کرنے، بھتہ وصول کرنے اور نقدی و موبائل فون چھیننے کے الزامات پر تھانہ آئی نائن (انڈسٹریل ایریا) میں مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ مرکزی ملزم اسامہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم اس کے دو مبینہ ساتھی تاحال مفرور ہیں۔

پولیس کے مطابق متاثرہ شہری محمد وقار کی مدعیت میں درج ایف آئی آر نمبر 560/26 میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 20 جون 2026 کی رات وہ اپنے ہیلپر محمد فیاض کے ہمراہ آئی ایٹ مرکز میں واقع پلازہ کے ایک دفتر میں کیبن کی مرمت کے لیے موجود تھا کہ اسی دوران 3 افراد زبردستی اندر داخل ہوئے، خود کو مجسٹریٹ کا ریڈ ظاہر کے کےتمام موجود افراد کو دو گھنٹے تک ایک کمرے میں بند رکھا، موبائل فون قبضے میں لے لیے اور خوف و ہراس پھیلا کر مختلف افراد سے نقد رقم وصول کی۔

درخواست کے مطابق ایک ملزم، جسے اس کے ساتھی اسامہ کے نام سے پکار رہے تھے، نے خود کو مجسٹریٹ کا ریڈر ظاہر کیا، دورانِ تلاشی مدعی سے 16 سے 17 ہزار روپے اور اس کے ہیلپر سے تقریباً 6 ہزار روپے چھین لیے جبکہ مزاحمت پر مبینہ طور پر محمد وقار کو تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اس کی ناک سے خون بہنے لگا۔

ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ بعد ازاں ایک شخص، جس کی شناخت بعد میں پلازہ کے کیئر ٹیکر ملک عباس کے طور پر ہوئی، موقع پر آیا اور مبینہ طور پر متاثرین کو مزید رقم دے کر جان چھڑانے کا مشورہ دیا، جس پر مدعی نے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے مزید 7 ہزار روپے نکلوا کر دیے، جو مبینہ طور پر اسامہ کے حوالے کر دیے گئے، جبکہ کاؤنٹر سے بھی نقدی اور ایک موبائل فون اٹھا لیا گیا۔

مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام ملزمان نے خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کرتے ہوئے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، غیر قانونی حبس میں رکھا، تشدد کیا اور بھتہ وصول کیا۔

پولیس نے واقعے کے تقریباً 10 روز بعد مقدمہ درج کرتے ہوئے مرکزی ملزم اسامہ کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور تمام الزامات کا تعین شواہد اور عدالتی کارروائی کی روشنی میں کیا جائے گا۔