ارشد شریف قتل کیس: کینیا کی سپریم کورٹ نے پولیس اہلکاروں پر مقدمے کی درخواست مسترد کر دی

صحافی ارشد شریف کے حقِ زندگی کی خلاف ورزی تو ہوئی مگر پولیس پر مقدمہ چلانے کا حکم نہیں دے سکتے،کینیا کی سپریم کورٹ کا فیصلہ

July 3, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیروبی: کینیا کی سپریم کورٹ نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کی ہلاکت کے ذمے دار پولیس اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ عدالتیں ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشنز کو یہ ہدایت نہیں دے سکتیں کہ وہ کب یا آیا کس کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کریں۔

مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیقی، کینیا یونین آف جرنلسٹ اور کینیا کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن نے کینیا کے ایک ایپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے کچھ حصوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اپیلٹ کورٹ نے ارشد شریف کی ہلاکت کے ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری مقدمے کے اندراج کا حکم دینے، ارشد شریف کی اہلیہ کو دی جانے والی ہرجانے کی رقم میں اضافے اور کینیا کی حکومت کو معافی مانگنے کا حکم دینے کی درخواست مسترد کر دی تھیں۔ جس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ نے نچلی عدالتوں کے اس فیصلے کی توثیق کی ہے کہ پولیس کی جانب سے بلاجواز فائرنگ کے نتیجے میں صحافی ارشد شریف کے آئینی حقِ زندگی کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔

عدالتی فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے جویریہ صدیقی کا کہنا ہے کہ کینیا کی سپریم کورٹ نے کینیا کی پولیس کے ہاتھوں ارشد شریف کا قتل حقِ زندگی کی غیر قانونی خلاف ورزی تو قرار دیا ہے ’تاہم عدالت نے نہ تو اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے، نہ ہی معافی مانگنے کی ہدایت کی، اور نہ ہی اس قتل کو تشدد (ٹارچر) قرار دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی کسی کو جواب دہ ٹھہرایا گیا ہے۔میں نے یہ صورتِ حال پہلے پاکستان میں دیکھی اور اب کینیا میں دیکھ رہی ہوں۔ چار سال بعد ہمارے پاس عدالت کا ایک اعلامیہ تو ہے لیکن انصاف اب بھی نہیں ملا۔ اب ایک بار پھر یہ معاملہ کورٹ آف اپیل میں پہنچ گیا ہے۔

پاکستانی صحافی ارشد شریف 23 اکتوبر کی رات کینیا کے علاقے مگاڈی میں پولیس کی فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوئے تھے۔