لاہورمیں غیر ملکی لڑکیوں کو بازیاب نہیں کرایاگیا،گاڑی حادثے کے بعدفرار ہوئیں
مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے، تشدد کا نشانہ بنایا،عدالت کے سامنے بیانات ریکارڈ
لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں متاثرہ غیر ملکی خاتون ایسٹرڈ روبنسن کے مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے بیان کا کچھ حصہ منظرعام پر آگیا ہے۔
متاثرہ خواتین کے میجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے بیانات ریکارڈ ہوئے۔خواتین نے بتایا کہ وہ پہلے اسلام آباد کے ہوٹل میں مقیم تھیں، رضا ڈار نے انہیں نتھیا گلی کی سیر بھی کرائی اور پھر لاہور لے کر آیاجہاں ایک گھر میں چار مسلح افراد داخل ہوئے۔ یہاں پر انہیں وحشیانہ جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
تاہم خواتین کا کہنا ہے کہ اس میں رضا ڈار شامل نہیں تھا، وہ صرف کمپیوٹر اور رقم کا پوچھتا رہا۔
بیان کے مطابق ایسٹرڈ روبنسن نے بتایا کہ ان کی عمر 40 سال ہے اور وہ اسپین کے شہر ہنڈاس دی لاس کی رہائشی ہیں۔ انہوں نے حلف کے تحت بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ رضا ڈار نے خود کو علی ڈار کا بیٹا بتایا تھا۔میں نے اس کے بارے میں پوری ریسرچ کی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ وہ پاکستان میں وزیر علی ڈار کا بیٹا ہے۔
ایسٹرڈ نے کہا کہ انسٹاگرام دیکھا تو علی ڈار کے فیملی والے حصے میں محمد رضا ڈار کی ایک تصویر تھی جس میں علی، رضا کو گلے لگا رہا تھا۔ اس کے وٹس ایپ نمبر پروفائل میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم کے ساتھ بھی اس کی ایک تصویر تھی۔
لاہور میں قیام کے دوران پہلی رات چار مسلح افراد آئے، انہیں باندھ کر کالے کپڑوں میں ملبوس ایک شخص نے تشدد کیا، جسم کے حساس حصوں کو چھوا اور چہرے پر کئی گھونسے مارے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ رضا نامی شخص نے ان سے کمپیوٹر اور رقم کے بارے میں پوچھ گچھ کی، جس پر انہوں نے بتایا کہ دونوں چیزیں سبز بیگ میں موجود ہیں۔ بعد ازاں دوسری خاتون سٹیفنی کو بھی واپس لایا گیا اور دونوں سے کمپیوٹر اور پاس ورڈ کے بارے میں سوالات کیے جاتے رہے۔
خاتون نے الزام لگایا کہ ان کے سر پر پستول کا بٹ بھی مارا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں موجود ایک شخص روانی سے انگریزی بول رہا تھا، جس نے مبینہ طور پر دھمکی دی کہ اگر رقم نہ دی تو وہ زندہ واپس نہیں جا سکیں گی۔
متاثرہ خاتون کے مطابق بعد میں انہیں دوسرے فلور پر لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر انہیںتشدد کا نشانہ بنایا گیا اور زیادتی ہوئی
ایسٹرڈ نے کہا کہ انسٹاگرام دیکھا تو علی ڈار کے فیملی فوٹوز میں محمد رضا ڈار کی ایک تصویر تھی جس میں علی، رضا کو گلے لگا رہا تھا۔ اس کے وٹس ایپ نمبر پروفائل میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم کے ساتھ بھی اس کی ایک تصویر تھی۔
دوسری متاثرہ خاتون سٹیفنی ایڈریانانے اپنے بیان میں کہاکہ رضانے انہیں نتھیاگلی کی سیرکرائی ، اسلام آباد کے فائیورسٹارہوٹل میں ٹھہرایااور شاپنگ بھی کرائی تھی۔
اس سے پہلے اطلاعات آئی تھیں کہ ہالینڈ سے ایک خاتون کے والد نے ون فائیو پر اطلاع دی جس کے بعد دو گھنٹے میں خواتین کو بازیاب کرا لیا گیا۔تاہم اسٹیفنی اور اسٹرد نے ایک مختلف کہانی بیان کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ رضا ڈار نے ان کے خاندان سے پیسے نکلوا لیے تھے اور رقم وصول ہونے کے بعد رضا انہیں پاسپورٹ واپس دے کر ائر پورٹ لے جارہاتھا۔خواتین کا کہناہے کہ راستے میں رضا مسلسل کسی سے بات کررہاتھا، تاہم دوسری جانب سے اسے کہاگیا کہ باس کی ہدایات تو کچھ اور ہیں۔
راستے میں ان گاڑی حادثے کا شکار ہوئی ،اس دوران دونوں نکل کر بھاگیں اور شور مچانے پر پولیس آگئی ۔جس نے انہیں ایک اور گاڑی میں بٹھایا، تاہم پولیس نے کچھ دور جا کر کہا کہ گاڑی خراب ہوگئی ہے، یہ سچ نہیں تھا، یہاں وہ پھر بھاگ نکلیں، اس بار پولیس کی ایک اور گاڑی آئی جس میں ایک خاتون افسر بھی تھی اور اس نے بتایا کہ وہ انہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔
مقدمے کی دیگر تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکیوں کے موبائل فونز سے15 لاکھ ڈالر کی ٹرانزیکشنز کے ثبوت ملے ہیں۔اب تک 8 ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں۔