ٹیلی کام بل سے کسی کی زمین یا جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں ہوگا، وفاقی حکومت کی وضاحت

ٹیلی کام بل کے حوالے سے مالی بے ضابطگیوں اور دیگر الزامات بے بنیاد ہیں، اور وزیراعظم سے ان الزامات کی انکوائری کی درخواست کی گئی ہے۔

July 5, 2026 · قومی

اسلام آباد میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے واضح کیا ہے کہ ٹیلی کام بل کے تحت کسی شہری کی ذاتی زمین یا جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شزا فاطمہ نے کہا کہ ٹیلی کام بل کے حوالے سے مالی بے ضابطگیوں اور دیگر الزامات بے بنیاد ہیں، اور وزیراعظم سے ان الزامات کی انکوائری کی درخواست کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے ٹیلی کام قانون کا بنیادی مقصد ملک میں تیز رفتار اور بہتر انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق قانون سازی تمام اسٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے سے کی جا رہی ہے اور نجی املاک سے متعلق واضح کیٹیگریز طے کی جائیں گی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نجی پراپرٹی پر فائبر آپٹک بچھانے کے لیے مالک کی اجازت لازمی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں چھ ترامیم کے ساتھ بل منظور کیا گیا ہے، جبکہ کمیٹی کو کسی ایک کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے شواہد نہیں ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے بل میں موجود تمام خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ قانون کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔