ٹرمپ کے دشمن صحافی وائٹ ہاؤس پر ایوارڈز لے اڑے۔امریکی صدر پھر تلخ ہوگئے
کبھی کبھی واقعی لگتا ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگ مجھے پسند نہیں کرتے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کارسپانڈنٹس ایسوسی ایشن (WHCA) کے عشائیے میں میڈیا پر کڑی تنقید کی ہے، یہ ایسی تقریب تھی جس میں پریس کی آزادی کا جشن منایا گیا کیونکہ تین ماہ قبل پہلی تقریب کو فائرنگ کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا۔
صدر تقریب میں موجود رہے،اور ان میڈیا ہاؤسز کے صحافی جن کے ساتھ ان کی چپقلش رہی ہے اور انہوں نے مقدمات بھی کیے، بشمول نیویارک ٹائمز، سی این این اور وال سٹریٹ جرنل، ایوارڈز لینے کے لیے اسٹیج پر آئے۔
وائٹ ہاؤس نامہ نگار ایسوسی ایشن کی سبکدوش ہونے والی سربراہ نے کہا کہ وہ تشدد کے کسی واقعے کو حتمی فیصلہ نہیں بننے دیں گی، ان کا اشارہ اس مسلح شخص کی طرف تھا جسے اپریل میں پہلے عشائیے کے دوران دبوچ لیا گیا تھا۔ لیکن تقریب کا رنگ اس وقت بدل گیا جب ٹرمپ نے فیک نیوز پر طنز کے تیر چلائے اور کمرے میں موجود کئی صحافیوں پر ٹرمپ ڈرینجمنٹ سنڈروم(ٹرمپ کی وجہ سے ذہنی اضطراب) کا شکار ہونے کا الزام لگایا۔
پوری تقریب کے دوران ٹرمپ اچھے موڈ میں نظر آئے، انہوں نے مذاقاً میڈیا سے کہا کہ کبھی کبھی مجھے واقعی لگتا ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگ مجھے پسند نہیں کرتے۔انہوں نے کہاکہ یہ جگہ (عشائیہ) واقعی ٹرمپ ڈرینجمنٹ سنڈروم کے شکار لوگوں کا سب سے بڑا مجموعہ ہے جو ایک ہی وقت میں اکٹھا ہوا ہے۔ مجھے شک ہے کہ آپ میں سے کچھ خوش قسمت ہیں کہ ہمارا پچھلا عشائیہ ادھورا رہ گیا تھامیں آپ کے پیچھے آنے والا تھا۔
صدر نے مذاق میں کہا کہ ان کے عہدے سے ہٹنے کے بعد خبروں کی صنعت دیوالیہ ہو جائے گی کیونکہ رپورٹ کرنے کے لیے کوئی بچے گا ہی نہیں، جس کے بعد انہوں نے ٹرمپ 2028 کی ٹوپی پہنی اور کہا کہ وہ اگلی مدت کے لیے بھی الیکشن لڑیں گے۔
ٹرمپ نے کہاجیسا کہ میں نے تین ماہ پہلے کہا تھا، شو جاری رہنا چاہیے۔لیکن اس دوران کئی صحافیوں پر براہِ راست سخت جملے بھی کسے گئے، جن میں سے کچھ ہال میں ہی موجود تھے۔ ان کا یہ تلخ لہجہ اور ذاتی حملے ڈیموکریٹک سیاست دانوں اور نامور شخصیات تک بھی پھیل گئے کیونکہ ان کی گھنٹہ بھر طویل تقریر میں کچھ پرانے نشانے بھی شامل تھے۔
امریکی صدر نے امریکیوں پر اظہارِ رائے کی آزادی کا احترام کرنے پر بھی زور دیا۔ ٹرمپ نے کہاکہ ہم اپنے اختلافات گولیوں سے نہیں بلکہ کھلی اور جاندار بحث سے حل کرتے ہیں۔ اور ہتھیا ر اٹھانے والا کوئی بھی ذہنی مریض اسے کبھی تبدیل نہیں کر سکتا۔ ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دے سکتے۔
تقریب سے پہلے، وائٹ ہاؤس کے پریس کور میں شامل کئی لوگوں کا خیال تھا کہ ٹرمپ جو اکثر ان صحافیوں پر تنقید کرتے ہیں جو ہال میں ان سے چند میٹر کے فاصلے پر بیٹھے تھے،میڈیا کی سخت سرزنش کریں گے،تاہم ،اپنے ریمارکس میں، ٹرمپ بعض اوقات خوش اخلاق اور مصالحتی نظر آئے، انہوں نے ازراہ تفنن کہا کہ دوسری بار ہمیشہ بہتر ہوتی ہے اور میڈیا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان میں سے اکثرکی عزت کرتے ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نامہ نگارتنظیم کی صدر اور سی بی ایس نیوز کی صحافی ویجیا جیانگ نے کہا کہ یہ تقریب اگلے سال دوبارہ اپریل کی فائرنگ کے اسی مقام، واشنگٹن ہلٹن، میں منعقد ہوگی۔
اس واقعے کے دوران گولی کا شکار ہونے والے افسر، امریکی سیکرٹ سروس کے وکٹر گونزالیز کو فائرنگ کی رات ان کے جرات مندانہ اقدامات پر ٹرمپ کی جانب سے ایوارڈ دیا گیاتھا۔ ٹرمپ نے کھڑے ہو کر ایوارڈ جیتنے والوں سے ہاتھ ملایا، جن میں وال سٹریٹ جرنل کی وہ ٹیم بھی شامل تھی جسے بدنام زمانہ فنانسر جیفری ایپسٹین کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات کی کوریج پر ایوارڈ دیا گیا تھا۔