بھارت نے نیٹ میٹرنگ پر گرڈ سپورٹ ٹیکس لگا دیا
فروخت کی قیمت کم۔ رات کے وقت کی رعایتیں ختم
تصویر: سوشل میڈیا
بھارت میں تقسیم کار کمپنیوں کے دبائوپر چھتوں پر سولر پینلوں کے ذریعے مفت بجلی دینے کا وعدہ مہنگے نرخوں میں بدل گیا۔ دو بڑی ریاستوں مہاراشٹر اور کرناٹک نے نئے گرڈ اور ٹیرف چارجز میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔
مہاراشٹر نے مالی سال 2027 میں ایک یونٹ بجلی پر1اعشاریہ 96بھارتی روپے کاگرڈ سپورٹ چارج نافذ کر دیا ہے، جو مالی سال 2030 تک بڑھ کر2اعشاریہ 32بھارتی روپے فی یونٹ ہو جائے گا۔ دوسری جانب کرناٹک نے کمرشل اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی واپسی (بائی بیک) کی شرح کم کر کے3اعشاریہ 80بھارتی روپے فی یونٹ کر دی ہے اور ٹرانس فارمرز سے منسلک چھت والے سولر پینلوں کی گنجائش کو 80 فیصد تک محدود کر دیا ہے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق مہاراشٹر کے نئے قوانین سے کمرشل اور صنعتی صارفین کے بجلی کے بل میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے پروجیکٹس کی لاگت واپسی کا عرصہ (پے بیک پیریڈ) چار سال سے بڑھ کر سات سے نو سال ہو جائے گا۔
کرناٹک الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (کے ای آر سی) نے کمرشل اور صنعتی صارفین کے لیے سرپلس بجلی خریداری کی قیمت کم کر دی ہے اور مقامی بجلی نیٹ ورک کی گنجائش کے مطابق نئی تنصیبات پر پابندی لگا دی ہے۔ صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر اور کرناٹک دیگر ریاستوں کے لیے نئے ریگولیٹری ماڈل بنتے جا رہے ہیں۔
یہ اقدامات بھارت کی توانائی منتقلی (انرجی ٹرانزیشن) میں بڑھتے ہوئے پالیسی تضاد کو سامنے لاتے ہیں۔ ایک دہائی سے زائد مرکزی حکومت کا مقصدزیادہ سے زیادہ گھروں کی چھتوں پر سولر پینل لگانا، بجلی کے بل کم کرنا اور بجلی کی پیداوار کو مقامی سطح پر پھیلاناتھالیکن ریاستی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کا سامنا ایک مختلف حقیقت سے ہے۔
چھت پر پیدا ہونے والی ہر یونٹ بجلی دن کے وقت ان کی فروخت میں کمی کا باعث بنتی ہے، غروب آفتاب کے بعد، ابرآلود موسم اور زیادہ طلب کے اوقات میں گرڈ کو مکمل طور پر دستیاب رکھنا پڑتا ہے۔
نتیجے میں تقسیم کار کمپنیوں کا کاروباری ماڈل دباؤ میں آ گیا ہے۔ وہ کھمبے، تار، ٹرانس فارمر اور سب سٹیشنز کی دیکھ بھال کر رہی ہیں مگر دن میں بجلی کی فروخت سے آمدنی کم ہو رہی ہے۔ مسئلہ اب صرف زیادہ سولر بجلی پیدا کرنے کا نہیں رہا بلکہ اس گرڈ کی لاگت ادا کرنے کا پائیدار طریقہ تلاش کرنے کا ہے جو سولر نہ ہونے پر بھی بجلی کی فراہمی یقینی بنائے۔
مہاراشٹر نے گرڈ پر انحصار کرنے والوں سے چارج لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیاگرڈ سپورٹ چارج پیدا کی گئی کل بجلی پر لگتا ہے، چاہے وہ ساری بجلی خود استعمال کر لی جائے اور گرڈ میں کوئی سرپلس نہ بھیجا جائے۔ اس کے علاوہ پاوربینکنگ کے قوانین کو بھی سخت کر دیا گیا ہے اور رات کے وقت کی رعایتیں ختم کر دی گئی ہیں۔
کرناٹک نے چارج لگانے کی بجائے سولر کو کم فائدہ مند بنانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ بجلی کی واپسی کی قیمت کم کر کے اور نئی تنصیبات پر 80 فیصد کی حد لگا کر اس نے مقامی سطح پر سولر توسیع کو کنٹرول کر لیا ہے۔
مختلف ریاستوں کے مختلف طریقے ایک ہی مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہیں،جو صارفین اپنی بجلی خود پیدا کر رہے ہیں، انہیں بھی اس بجلی کے نیٹ ورک کی لاگت میں حصہ ڈالنا ہوگا جس پر وہ اب بھی انحصار کرتے ہیں۔
یہ تبدیلیاں بتاتی ہیں کہ بھارت میں چھت والے سولر کی حوصلہ افزائی اب لامحدود نہیں رہے گی بلکہ اسے نیٹ ورک اور اس کے حقا ئق سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔