سعودی خام تیل سستا، پاکستان میں پیٹرول قیمت کب کم ہوگی

قیمتوں میں کمی اگست 2026 کے سپلائی کوٹے پر لاگو ہوگی۔ اس کے بعد مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی قیمت تقریباً 64 سے 65 ڈالر فی بیرل تک آنے کا امکان ہے

July 8, 2026 · امت خاص

سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے اگست 2026 کے لیے اپنے خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے، جسے گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کی بڑی قیمتوں میں کمی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی آنے اور تیل درآمد کرنے والے ممالک کو ریلیف ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق قیمتوں میں کمی اگست 2026 کے سپلائی کوٹے پر لاگو ہوگی۔ اس کے بعد مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی قیمت تقریباً 64 سے 65 ڈالر فی بیرل تک آنے کا امکان ہے، جبکہ آرامکو کا “عرب لائٹ” خام تیل عمان/دبئی بینچ مارک سے بھی کم قیمت پر دستیاب ہوگا۔

ماہرین کے مطابق پاکستان پہنچنے تک خام تیل کی قیمت میں ریفائننگ، بحری کرایہ اور انشورنس سمیت دیگر اخراجات شامل ہونے کے بعد اس کی لاگت تقریباً 72 سے 74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

موجودہ زرِ مبادلہ کی شرح کے مطابق درآمدی لاگت کی بنیاد پر پٹرول کی قیمت تقریباً 130 روپے فی لیٹر بنتی ہے، تاہم پاکستان میں پٹرول کی حتمی قیمت میں پیٹرولیم لیوی، کسٹم ڈیوٹی، جنرل سیلز ٹیکس، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن سمیت دیگر اخراجات بھی شامل کیے جاتے ہیں، جس کے باعث صارفین کو کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی کم قیمتوں کا فائدہ مکمل طور پر صارفین تک منتقل کیا جائے اور موجودہ ٹیکسوں میں اضافہ نہ کیا جائے تو آئندہ مہینوں میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

تاہم حتمی قیمت کا انحصار حکومت کی آئندہ پٹرولیم قیمتوں سے متعلق پالیسی، ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی کے فیصلوں پر ہوگا۔ اگر حکومت ریونیو برقرار رکھنے کے لیے لیوی یا دیگر ٹیکسوں میں اضافہ کرتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے کے باوجود عوام کو مکمل ریلیف نہ ملنے کا امکان بھی موجود ہے۔