کراچی میں 6 سالہ بچے کی لاش برآمد، مبینہ زیادتی کے بعد قتل کا شبہ، پڑوسی گرفتار
اکلوتا بیٹا ان کی زندگی کا سہارا تھا اور اس کی موت نے ان کی دنیا اجاڑ دی ہے۔مقتول کا والد
کراچی میں 6 سالہ بچے کی لاش برآمد، مبینہ زیادتی کے بعد قتل کا شبہ، پڑوسی گرفتار
کراچی: شہر کے علاقے لی مارکیٹ میں دو روز قبل لاپتا ہونے والے 6 سالہ بچے کی لاش برآمد ہونے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ایک مشتبہ پڑوسی کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ ابتدائی تحقیقات میں بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول محمد ولی دو روز قبل گھر سے ایک ضروری چیز لینے کے لیے نکلا تھا، تاہم واپس نہ آیا۔ اہل خانہ نے کافی تلاش کے باوجود کوئی سراغ نہ ملنے پر واقعے کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ بعد ازاں بچے کی بوری میں بند لاش ایک رہائشی عمارت کے قریب سے ملی، جسے پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ورثا کا کہنا ہے کہ محمد ولی پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ والدین کے مطابق وہ دو دن تک اپنے بچے کی تلاش میں دربدر پھرتے رہے، لیکن معصوم واپس نہ آیا۔
بچے کی والدہ نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ واردات پڑوسی کی عمارت میں پیش آئی اور بعد ازاں لاش عمارت کی تیسری منزل سے نیچے پھینکی گئی۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد انہیں متعلقہ مکان میں داخل ہونے سے بھی روکا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق ایک مشتبہ پڑوسی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔ واقعے کی اصل نوعیت اور مبینہ زیادتی کی تصدیق پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی کی جا سکے گی۔
مقتول کے والد، جو پیشے کے لحاظ سے رکشہ ڈرائیور ہیں، نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اکلوتا بیٹا ان کی زندگی کا سہارا تھا اور اس کی موت نے ان کی دنیا اجاڑ دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزم کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔
ادھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل سندھ پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کی جائیں اور اگر کسی کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہے تو اسے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلائی جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جبکہ فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس افسوسناک واقعے پر علاقے کے مکینوں نے بھی شدید دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔