لیبیا میںپاکستان کی خاموش ثالثی۔امن منصوبہ بھی سامنے آگیا

امریکہ اس کوشش سےمکمل طور پر آگاہ اور شامل ہے،ذرائع

July 8, 2026 · امت خاص

تصویر: سوشل میڈیا

 

پاکستان نے لیبیا کے مشرقی اور مغربی حریف مراکز اقتدار کے درمیان خاموشی سے ثالثی شروع کر دی ہے۔ دو پاکستانی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ کوشش اگر کامیاب ہوئی تو پاکستان کا سفارتی پروفائل مزید بلند ہو جائے گا۔

یہ پہلی غیر رپورٹ شدہ پاکستانی کوشش ہے جو اس وقت سامنے آئی جب مبصرین کئی ماہ سے امریکہ کی قیادت میں لیبیا میں سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے بعد معمر قذافی کے خاتمے سے لیبیا خانہ جنگی کا شکار ہوا اور مشرقی و مغربی حریف انتظامیہ کے درمیان تقسیم ہو گیا۔

پاکستانی ذرائع کے مطابق، امریکہ اس کوشش سےمکمل طور پر آگاہ اور شامل ہے۔ ان کوششوں کو سعودی عرب اور ترکیہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ یہ کوششیں گزشتہ سال کے آخر میں شروع ہوئیں اور دونوں لیبیائی فریقوں نے پاکستان سے ثالثی کی درخواست کی تھی۔

لیبیا کو دوبارہ متحد کرنے کے لیے تجویز کردہ “لیبیا ری یونیفکیشن پلان” کے تحت 36 ماہ کا عبوری انتظام قائم کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے مطابق مشرقی لیبیا کے سربراہ خلیفہ حفتر تیل کے بڑے وسائل پر کنٹرول رکھیں گے اور صدارت سنبھالیں گے۔مغربی حصے کو وزارت عظمیٰ دی جائے گی۔

اس منصوبے میں اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ گورنمنٹ آف نیشنل یونٹی کے عبدالحمید دبیبہ وزیراعظم اور مشرقی لیبیائی نیشنل آرمی کے ڈپٹی کمانڈر صدام حفتر (خلیفہ حفتر کے بیٹے) پریذیڈنشل کونسل کے چیئرمین ہوں گے۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے راولپنڈی میں صدام حفتر سے ملاقات کی۔ اس کے چند دن بعد حفتر واشنگٹن گئے جہاں ان کی امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان دونوں فریقوں کے ساتھ روابط رکھنے والا اہم کھلاڑی ہے۔ پاکستان نے مشرقی لیبیائی نیشنل آرمی (LNA) کے ساتھ دفاعی روابط بھی استوار کیے ہیں، جبکہ مغربی گورنمنٹ آف نیشنل یونٹی (GNU) نے بھی پاکستان سے براہ راست بات چیت کی درخواست کی ہے۔ ترکی اور قطر نے بھی پاکستان کو ثالثی میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔

پاکستان نے تاکید کی ہے کہ لیبیا میں پائیدار امن کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی، لیبیائی قیادت اور لیبیائی ملکیت والا عمل ہی واحد راستہ ہے۔ اقوام متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں کہاتھاکہ لیبیا ہمارا بھائی ملک ہے اور ہم اس کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی اتحاد کی حمایت میں مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کوششیں جاری ہیں، تاہم تیل کی آمدنی، فوجی کنٹرول اور سیاسی عہدوں کی تقسیم جیسے پیچیدہ مسائل کی وجہ سے پائیدار معاہدے کے امکانات احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔