بلوچستان میں دہشت گردی سے 42شہری شہید،54 خوارج ہلاک۔حملے بھارت کرارہا ہے،ترجمان پاک فوج
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی نیوزکانفرنس
ڈی جی آئی ایس پی آر۔فائل فوٹو
ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حملے بھارت کرارہا ہے جسے پاکستان کی خوشحالی قبول نہیں۔ بلوچستان میں 4 روز کے دوران 42 شہری شہید ہوئے 54 دہشت مارے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اہم نیوز کانفر نس میں بلوچستان کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال سے متعلق اپڈیٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے 3 واقعات ہوئے، پہلا واقعے میں 4 اور 5 جولائی کی رات کو فتنہ الخوارج نے مقامی عوام پر حملہ کیا، اس دوران 4 معصوم شہری شہید ہوئے، 6 زخمی ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ 6 جولائی کو منگی ڈیم زیادت کے قریب پمپنگ ااسٹیشن کے قریب پولیس کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا، اہلکاووں نے بھرپور مقابلہ کیا، اس لڑائی میں زیارت میں کم از کم 15 دہشت گرد مارے گئے جن کی لاشیں چھوڑ کر دیگر بزدل دہشت گرد فرار ہوگئے، پولیس اہلکاروں نے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جب کہ اس دوران 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فورسز کو فوری طور پر وہاں روانہ کیا گیا جب کہ دہشت گرد پولیس اہلکاروں کو نہتا کرکےیرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے، یہ پولیس کے جوان اسی علاقے کے ہیں، وہ سب وہاں کے مقامی بلوچ اور پختون بچے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے نے بتایا کہ فورسز نے دہشت گردوں کا پیچھا کیا اور آپریشن کیا، ان کے پاس ہمارے جوان تھے، اس لیے محتاط ہو کر ان کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا، 6 جولائی سے جاری آپریشن کے دوران متعدد خارجی ہلاک ہوئے، اس دوران ان گھٹیا دہشت گردوں نے 18 یرغمال جوانوں کو شہید کردیا، یہ آپریشن ابھی بھی چل رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ منگی ڈیم حملے والے دن ہمارے 9 جوان شہید ہوئے اور آج ہمارے 18 جوان شہید ہوئے، مجموعی طور پر 27 جوان شہید ہوئے، اس کے علاوہ آج ایک سیکیورٹی قافلے پر بی ایل اے کے حملے کے دوران آرمی کے 11 جوان شہید ہوئے، بی ایل اے کے 14 دہشت گرد مارے گئے۔منگی ڈیم سے کوئٹہ کے عوام کو پانی فراہم کیا جاتا ہے، 6 جولائی کو دہشت گردوں نے منگی ڈیم پر حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر دہشت گردوں کے ان حملوں میں جوانوں سمیت 42 قیمتی جانیں گئیں۔ فورسز کی جوابی کارروائی میں 54 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اس وقت بھی کارروائیاں جاری ہیں، یہ دہشت گردی کی کارروئیاں بھارت کر رہا ہے جسے پاکستان کی خوشحالی، اس کی عزت برداشت نہیں ہو رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے زیادہ تر دہشت گرد افغان ہیں، دہشت گردی کے ان واقعات کے پیچھے ایک منصوبہ ہے، جس میں افغان رجیم معاونت فراہم کر رہا ہے۔