اے آئی سے مشورے لے کرکیس تیار کرنے والے وکیلوں کیلئے بڑادھچکا
عوامی ٹولز استعمال کرنے پر رازداری ختم ہوجاتی ہے،امریکی عدالت،
نو اے آئی
قانونی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایک امریکی وفاقی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ عوامی جنریٹو AI پلیٹ فارمز (جیسے چیٹ جی پی ٹی یا کلاڈ) کے استعمال سے حاصل کردہ مواد نہ تو ورڈ پروڈکٹ کے تحفظ کے تحت آتا ہے اور نہ وکیل،موکل رازداری کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ایک مقدمے کے دوران، فروری 2026 کے فیصلے میں عدالت نے واضح کیا تھا کہ جب ملزم نے عوامی اے آئی پلیٹ فارم کے ساتھ اپنے مقدمے کی تفصیلات شیئر کیں تو وہ دراصل تیسرے فریق کے ساتھ معلومات بانٹ رہا تھا۔ نتیجتاً یہ گفتگو حکومت کے لیے قابلِ دریافت قرار دی گئی۔
عدالت نے کہا کہ اے آئی آپ کا وکیل نہیں، اس لیے اس کے ساتھ کی گئی بات چیت رازداری کے تحفظ سے محروم رہتی ہے۔ اے آئی کی پرائیویسی پالیسیاں بھی اکثر ان پٹ ڈیٹا کو ماڈل ٹریننگ یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا حق رکھتی ہیں، جو رازداری کی توقع کو مزید کم کر دیتی ہیں۔
برطانیہ کی لا سوسائٹی نے سول جسٹس کونسل (CJC) کی مشاورت کے جواب میں کہا ہے کہ عدالت کے دستاویزات تیار کرنے میں AI کا استعمال احتیاط سے کیا جائے۔
لا سوسائٹی نے تسلیم کیا کہ AI کارکردگی بڑھا سکتا ہے، لاگت کم کر سکتا ہے اور انصاف تک رسائی آسان بنا سکتا ہے، لیکن اس کے خطرات بھی سنگین ہیں جن میں غلط حوالہ جات، حقائق کی غلطیاں، تعصب، رازداری کی خلاف ورزی اور انصاف کے نظام پر اعتماد میں کمی شامل ہیں۔