مراکش سے ہزاروں تارکین وطن ہسپانوی علاقے میں گھس گئے، آبنائے جبل طارق پر قبضے کا صہیونی منصوبہ
ویڈیوز وائرل، ٹرکوں میں نوجوانوں کو اسپین کے علاقے سیوٹا کے قریب پہنچایا گیا
مراکش سے ہزاروں تارکین وطن پڑوسی ملک اسپین کے ساحلی علاقے سیستان میں گھس گئے ہیں۔ سرحدی کراسنگ توڑ کر ان افراد کے اسپین میں گھسنے کی ویڈیوز وائرل ہیں۔ جس کے بعد علاقے میں ایمرجنسی لگانے کی بات کی کا رہی ہے جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس غیر معمولی واقعے کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل ہیں جو آبنائے جبل طارق کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
سیوٹا آبنائے جبل طارق کے دہانے پر واقع ہے۔ اگرچہ اسپین کا زیادہ حصہ یورپ میں ہے تاہم آبنائے جبل طارق کے پار براعظم افریقہ کے کنارے پر مراکش کے ساتھ کچھ علاقے اسپین کی ملکیت ہیں جن میں سیوٹا (Ceuta) اور مولیلا (Melilla) شامل ہیں۔ مولیلا بحیرہ روم میں اندر کی جانب واقع ہے جبکہ سیوٹا آبنائے جبل طارق کے دہانے پر ہے۔ تارکین وطن کی جانب مولیلا کے بجائے سیوٹا میں گھسنے کو اسی لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مراکش اگر اسلامی ملک ہے تاہم یہ امریکہ اور اسرائیل کا حامی ہے دوسری جانب اسپین نے کھل کر فلسطینیوں کی حمایت کی ہے۔ ایران جنگ میں بھی امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔
ایسے میں ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن کے اچانک سرحد پار کرکے ہسپانوی علاقے میں گھسنے پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر کے بیان نے ان سوالات کو تقویت دی ہے۔ وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرک بھر بھر کے تارکین وطن کو سرحد کے قریب پہنچایا گیا جہاں سے وہ زبردستی اسپین میں گھس گئے۔
ہسپانوی سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطی کی تیل کی برآمدات پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے، بحیرہ روم سے آنے والے جہاز جبل طارق سے گزر کر ہی بحیرہ اوقیانوس میں داخل ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سیوٹا پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
España ha caído. Miles de inmigrantes del norte de África han tomado el sur del territorio español y están ingresando en manada.
Las imágenes son impactantes, parece una especie de invasión zombie en pleno siglo XXI. Muy grave. pic.twitter.com/0lH2LJBqBs
— Agustín Antonetti (@agusantonetti) July 30, 2026
اسپین میں داخل ہونے والے تمام افراد نوجوان ہیں۔ ان میں بچے، بوڑھے یا خواتین شامل نہیں اور اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لوگ اسے اسپین پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری طرف اسپین کے اندر وزیر اعظم پیڈرو سانچز کے مخالفین نے اس معاملے کو الگ رنگ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سانچز اسپین کو دوبارہ اسلامائز کر کے اندلس میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔ یاد رہے کہ اسپین پر طویل عرصہ مسلمانوں کی حکمرانی تھی اور تب یہ اندلس کہلاتا تھا۔
Thousands of military-age men were brought in trucks to the Moroccan-Spanish border in Ceuta. Most of them freed criminals pardoned by the king yesterday!
Notice the Moroccan officer assisting them. This was all coordinated by the Moroccan government. pic.twitter.com/pERBedfwq3
— Dr. Maalouf (@realMaalouf) July 30, 2026
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی اسپین سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ مراکش کے ساحل پر براعظم افریقہ کے علاقوں کا کنٹرول چھوڑ دے۔ اسرائیل کی اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینون نے ایکس پر لکھا کہ “اسپین، جو اسرائیل پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، نے اپنی امیگریشن پالیسی سے پیدا ہونے والے بحران کے بعد سیوٹا میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ شاید اسرائیل کو مزید نصیحتیں کرنے سے پہلے اسے دنیا کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ وہ اب تک افریقہ میں اپنی نوآبادیاتی عملداری والے علاقے کیوں برقرار رکھے ہوئے ہے۔”
Spain, which never misses an opportunity to lecture Israel, has declared a state of emergency in Ceuta following the crisis over its immigration policy.
Maybe before it continues lecturing us, it’s time it explained to the world why it still maintains colonial enclaves in…
— Danny Danon 🇮🇱 דני דנון (@dannydanon) July 30, 2026