امریکہ آج رات پھر ایران پر سخت حملہ کرے گا، ٹرمپ

ٹرمپ کے بقول میں نے انھیں تھوڑی سی پیشگی وارننگ دی تھی۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

ایران سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے گزشتہ رات اُنھیں بہت سخت نشانہ بنایا، بہت ہی سخت۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ شاید آج رات دوبارہ بھی سخت حملہ کرے گا۔ٹرمپ کے بقول میں نے انھیں تھوڑی سی پیشگی وارننگ دی تھی، ہم آج رات پھر اُن پر سخت حملہ کرنے جا رہے ہیں۔

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں جاری نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوال پر کہا کہ ہم نے کل رات کو بھی انہیں بری طرح نشانہ بنایا، انتہائی شدید حملہ کیا اور امریکا ممکنہ طور پر انہیں آج رات پھر نشانہ بنائے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ سابق صدر باراک اوباما کا معاہدہ بدترین تھا اور اوباما نے انہیں بہت زیادہ پیسے دیے، جہاز میں بھر کر پیسے دیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور اس حوالے سے ہم نے کافی پیش رفت کی ہے، میں ان سے خوش نہیں ہوں، ہم ایک اجلاس طلب کرتے ہیں اور ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دستبردار کرنے کی بات کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا ہے یعنی جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ اور میں سمجھتا ہوں اس حوالے سے ہم نے بڑی پیش رفت کی ہے۔

ایران سے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم ان سے اس حوالے سے بات کرتے ہیں پھر وہ چلے جاتے ہیں اور پریس کانفرنس میں کہتے ہیں ہماری اس پر بات ہی نہیں ہوئی وہ انتہائی جھوٹے ہیں۔