ٹرمپ کی ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ بحال کرنے کی دھمکی

آئندہ حملوں میں ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے، بشمول پلوں اور پانی صاف کرنے کے کارخانوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، صحافیوں سے گفتگو

فوٹو امریکی میڈیا

فوٹو امریکی میڈیا

انقرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ ناکہ بندی 17 جون کو جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت ختم کی گئی تھی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہو سکتا ہے ہم ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ صرف ایران کے لیے ہوگی، باقی تمام ممالک جو چاہیں کر سکیں گے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران موقع ملنے پر سمندری بارودی سرنگیں بچھا سکتا ہے تاہم امریکہ کے پاس ایسی سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے مائن سویپرز موجود ہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران بعض رکن ممالک نے خطے میں مائن سویپرز بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔

 ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کو اپنی ’زیادہ سے زیادہ طاقت‘ سے نشانہ نہیں بنا رہا، اور خبردار کیا ہے کہ آئندہ حملوں میں ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے، بشمول پلوں اور پانی صاف کرنے کے کارخانوں (ڈی سیلینیشن پلانٹس)، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ ایران کے ساحل کے قریب واقع اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے اور اس معاملے میں تہران زیادہ کچھ نہیں کر سکے گا۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ ’آج رات بڑا حملہ ہو سکتا ہے۔‘

دریں اثنا امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے عندیہ دیا کہ اگر ایسا حملہ کیا گیا تو وہ ایران کے اندر مزید گہرائی تک کیا جا سکتا ہے۔