جنسی تشدد جنگی ہتھیار بن چکا،فوری روکا جائے، پاکستان کا اقوام متحدہ میں انتباہ

جنسی تشدد جنگ کا ناگزیر نتیجہ نہیں بلکہ کئی تنازعات میں اسے خوف پھیلانے، جبر کرنے اور اجتماعی سزا کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

July 9, 2026 · اہم خبریں
جنسی تشدد جنگی ہتھیار بن چکا،فوری روکا جائے، پاکستان کا اقوام متحدہ میں انتباہ

جنسی تشدد جنگی ہتھیار بن چکا،فوری روکا جائے، پاکستان کا اقوام متحدہ میں انتباہ

 پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے خاتمے کے لیے مؤثر، منصفانہ اور بلاامتیاز عالمی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سلامتی کونسل کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ جنسی تشدد جنگ کا ناگزیر نتیجہ نہیں بلکہ کئی تنازعات میں اسے خوف پھیلانے، جبر کرنے اور اجتماعی سزا کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے جرائم نہ صرف متاثرہ افراد کی زندگیوں پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں بلکہ خاندانوں اور معاشروں کو بھی طویل عرصے تک متاثر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے یکساں اور مؤثر احتساب کو یقینی بنانا چاہیے۔

پاکستان نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود تمام مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں بین الاقوامی قوانین کا یکساں اطلاق کیا جائے اور کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر ذمہ داران کا احتساب کیا جائے۔

پاکستانی مندوب نے متاثرین کے لیے طبی، نفسیاتی، قانونی اور معاشی معاونت کی فراہمی کو بھی انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف، تحفظ اور باوقار بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

خطاب میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، بین الاقوامی انسانی قانون پر مکمل عملدرآمد اور تنازعات سے متاثرہ افراد کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔