آزادکشمیر میں انتخابی سرگرمیاں زور پکڑنے لگیں
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کوہالہ سے "پاکستان ہمیشہ زندہ باد" ریلی
آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے لیے 27 جولائی کا شیڈول جاری ہونے کے باوجود اب تک انتخابی سرگرمیاں سست تھیں، مگر اب بڑی سیاسی جماعتوں نے جمود توڑ دیا ہے اور انتخابی مہم زور پکڑنے لگی ہے۔
ریاست میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے سیاسی فضا کشیدہ رہی۔ تاہم اب نواز لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے تاریخی انٹری پوائنٹ کوہالہ سے “پاکستان ہمیشہ زندہ باد” ریلی نکالی، جو راڑہ کے مقام پر ایک بڑے جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔ ریلی سے وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی، کیپٹن (ر) صفدر، بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا، مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور سابق ریاستی وزیر نورین عارف نے خطاب کیا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے LA-9 کوٹلی 2 کے امیدوار انجینئر عمیر نعیم ایڈووکیٹ کی انتخابی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔ مختلف علاقوں میں کارنر میٹنگز اور عوامی رابطہ مہم میں بڑی تعداد میں عوام شریک ہو رہے ہیں۔دوسری جانب مسلم کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے دھیرکوٹ میں ایک بڑا پاور شو کیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران آزاد کشمیر کے ہر ضلع میں جلسے کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ “کشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے”۔استحکام پاکستان پارٹی بھی میدان میں ہے۔ سردار تنویر الیاس نے پارٹی میں شمولیت کے بعد حکومت بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں بعض حلقوں (خصوصاً پونچھ) میں انتخابات موخر کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ تمام 45 حلقوں میں پولنگ 27 جولائی کو ہی ہوگی اور کسی حلقے میں انتخابات موخر نہیں کیے جا رہے۔
ریاست بھر کے 45 حلقوں (33 براہ راست + 12 مہاجرین) کے لیے 846 امیدوار میدان میں باقی رہ گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 38 لاکھ 4 ہزار 368 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن میں 20 لاکھ ایک ہزار 655 مرد اور 18 لاکھ 2 ہزار 713 خواتین شامل ہیں۔ انتخابی عمل کے لیے 6 ہزار 963 پولنگ اسٹیشنز اور 10 ہزار 913 پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے۔ پولنگ سکیم بھی جاری کر دی گئی ہے۔
مبصرین کے مطابق سیاسی اور عوامی سرگرمیوں سے جمود ٹوٹ رہا ہے اور انتخابی ماحول سازگار ہونے کا امکان ہے۔ البتہ راولاکوٹ باغ روڈ پر صورتحال کشیدہ رہنے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما سردار عمر نذیر کشمیری نے مولانا فضل الرحمٰن سے مذاکرات شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔