امریکہ،ایران کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت جاری
ایل این جی ٹینکرز نے دوبارہ گزرنا شروع کردیا،جاپان سے منسلک 22 جہاز خلیج سے روانہ
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے، جبکہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار کئی ٹینکرز نے حالیہ دنوں میں اس اہم بحری راستے سے دوبارہ گزرنا شروع کر دیا ہے۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم پانچ ایل این جی ٹینکرز، جو اس وقت خالی تھے، گزشتہ چند روز کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ان میں گیس لاگ شنگھائی سمیت قطر انرجی سے منسلک السمریہ، الدفنہ، القطارہ اور الریان نامی جہاز شامل ہیں۔
دوسری جانب جاپان کے وزیرِ ٹرانسپورٹ یاسوشی کانیکو نے بتایا کہ منگل سے اب تک جاپان سے وابستہ 22 بحری جہاز خلیج سے روانہ ہو چکے ہیں۔ ان میں چھ بڑے خام تیل بردار ٹینکر بھی شامل ہیں، جنہوں نے 7 سے 9 جولائی کے دوران آبنائے ہرمز عبور کی، جس کے بعد خلیج میں جاپان سے وابستہ صرف چار جہاز باقی رہ گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود جہاز رانی کی بحالی کو عالمی توانائی منڈی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔