ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں نیا اتحادی ڈھونڈلیا؟

ترکیہ میں منعقدہ نیٹو اجلاس ایک عام سفارتی میٹنگ نہیں تھی، عالمی میڈیا

July 10, 2026 · امت خاص

تصویر: سوشل میڈیا

 

ٹرمپ کا ترکیہ میں نیٹو سربراہ اجلاس ایک عام سفارتی میٹنگ نہیں تھا بلکہ ایران کے خلاف امریکہ کی نئی اور زیادہ شاطرانہ حکمت عملی کا اہم حصہ تھا۔عالمی سطح پر یہ تاثر پایا جارہاہے کہ امریکہ نے دیکھ لیا ہے کہ ایران پر صرف پابندیاں دھمکیاں اور براہ راست حملے اب کام نہیں کر رہے اور ایران اپنا رویہ نہیں بدل رہا اس لیے اب وہ ایک نئی حکمت عملی اپنا رہا ہے جس میں ایک ساتھ کئی محاذوں پر دباؤ ڈالا جائے۔

اس حکمت عملی کے تحت سب سے پہلے ایران کے اندر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے جس میں عوام میں ناراضگی پیدا کرنا بجلی پانی ٹرانسپورٹ اور اہم معاشی مراکز کو نشانہ بنانا شامل ہے تاکہ ایرانی حکومت روزمرہ مسائل میں الجھ جائے اور بڑی اسٹریٹجک سوچ کی طرف نہ جا سکے۔ دوسری طرف ایران کے گردونواح میں بھی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے جس میں ایرانی سرحدوں کے قریب مغرب شمال مغرب اور جنوب مشرق میں انتشار پیدا کرنا اور ایران کے اتحادی گروپس پر حملے شامل ہیں جن میں لبنان کی حزب اللہ یمن کے حوثی اور عراق کی مزاحمتی فورسز شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکہ عالمی اور علاقائی اتحاد بھی بنا رہا ہے نیٹو اور یورپ کو قائل کیا جا رہا ہے کہ ایران ان کا بھی مسئلہ ہے ترکیہ کو اپنے پلان میں شامل کر کے ایران کی سرحدوں کے علاوہ شام کے ذریعے لبنان اور حزب اللہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ،ٹرمپ کے نیٹو اجلاس میں جانے کے پیچھے چار بڑے مقاصد تھے یورپ کو ایران کے خلاف متحد کرنا مستقبل کی کسی بھی کارروائی کو عالمی اتفاق رائے کا جواز دینا ترکیہ کو استعمال کر کے ایران کی سرحدوں پر دباؤ بڑھانا اور شام کے ذریعے حزب اللہ کو کمزور کرنا۔

دوسری طرف علاقے میں بھی کئی پیش رفتیں ہو رہی ہیں اسرائیل غزہ کو تباہ اور محدود رکھنا چاہتا ہے تاکہ مزاحمت نہ اٹھ سکے مغربی کنارے میں مزاحمت کو کچلنے کی کوشش کر رہا ہے یمن میں اسرائیل نے خصوصی یمن ڈیسک بنایا ہے اور حوثیوں پر نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے ۔ عراق میں ایران سے جڑے گروپس کو کمزور کرنے کی کوشش جاری ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کا حتمی مقصد یہ ہے کہ ایران اندر اور باہر دونوں جگہ الجھا رہے اس کی طاقت کم ہو جائے اور مغربی ایشیا میں ان کا غلبہ قائم ہو جائے۔

نیٹو اجلاس کے دوران اسرائیل بہت پریشان نظر آیا کیونکہ اسرائیلی میڈیا میں خبروں کے مطابق ٹرمپ ترکیہ کو جدید ایف تھرٹی فائیو لڑاکا طیارے دینے پر غور کر رہے ہیں جس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کا خدشہ ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اردوغان اسرائیل کی تباہی کی بات کرتے ہیں اور حماس کی حمایت کرتے ہیں اس لیے انہیں ایسے ہتھیار نہیں ملنے چاہییں۔

اجلاس کے اختتام پر صدر اردوغان نے تمام رہنماؤں کو ایک اصل گولیوں والا گوموشائے ریوالور تحفہ میں دیا۔ یہ تحفہ ترکیہ کے دفاعی شعبے اور اسلحہ سازی کی صنعت کو دنیا بھر میں پروموٹ کرنے کے لیےتھا کیونکہ ترکیہ چاہتا ہے کہ اس کی اسلحہ بنانے کی صلاحیت کو دنیا دیکھے اور اس سے خریداری کرے۔

یہ حکمت عملی بہت سوچی سمجھی لگتی ہے مگر رپورٹ کے مطابق یہ بھی ناکام ہو گی کیونکہ پچھلے تجربات بتاتے ہیں کہ ایران اور علاقے کی مزاحمتی قوتیں بڑی طاقتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہتی ہیں۔ علاقے کا مستقبل امریکی منصوبوں سے نہیں بلکہ عوام کی مرضی اور مزاحمت سے طے ہو گا۔