امریکہ نے ایران کے قریب دو طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کر دیے
آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اقدام۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ نے ایران کے قریب اپنی بحری موجودگی مزید مضبوط کرتے ہوئے دو طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش خلیجِ عمان میں تعینات کر دیے ہیں۔
بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق دونوں طیارہ بردار بحری جہاز خلیجِ عمان میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز کے اطراف سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور ضرورت پڑنے پر ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات پر عالمی تشویش بڑھ رہی ہے۔ دنیا بھر میں خام تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی اہم بحری گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی اس وقت دوبارہ بڑھ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عارضی جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے مذاکرات کے امکانات بھی برقرار رہنے کی بات کی۔
بعد ازاں امریکا نے ایران پر خطے میں تین آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام عائد کیا اور ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں 20 سے زائد جنگی بحری جہاز تعینات کیے ہوئے ہے، جبکہ نئی تعیناتی کو خطے میں امریکی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔