خام تیل کی قیمتوں میں چوتھے روز بھی اضافہ، برینٹ 91 ڈالر سے تجاوز کرگیا
دن کے آخر تک برینٹ خام تیل کی قیمت مزید بڑھ کر 91.56 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 85.53 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
فائل فوٹو
لندن : امریکا ایران جنگ بندی معاہدے میں تعطل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل پر غیر یقینی صورت کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل چوتھے روز بھی 3 ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کے اکتوبر کے ڈلیوری کے سودے 45 سینٹ یا 0.49 فیصد اضافے سے 91.47 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 45 سینٹ یا 0.53 فیصد اضافے کے بعد 85.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
بعد ازاں دن کے آخر تک برینٹ خام تیل کی قیمت مزید بڑھ کر 91.56 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 85.53 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کب معمول پر آتی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا حجم اب بھی معمول کی سطح سے خاصا کم ہے اور متعدد جہاز مالکان خطے میں موجود خطرات کے باعث اس راستے سے گریز کر رہے ہیں۔آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے رکاوٹوں کے باعث اب روس کو بھی دشواری کا سامنا ہے جب کہ صدر ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں اپنے ووٹرز کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تیل کمپنیوں پر زیادہ منافع کمانے کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دیتے آئے ہیں جب کہ پیٹرولیم کمپنیوں نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی منڈی کو تیل و گیس کی 20 فیصد سے زائد ترسیل ہوتی ہے تاہم امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے یہ آبی گزرگاہ بند کر رکھی ہے۔