پاکستانی بزنس مین ضیاچشتی کازیادتی کے الزامات پر ہتک عزت مقدمہ امریکی عدالت سے خارج
27 سالہ ٹاٹانیا سپوٹس ووڈ نے کانگریس کی ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کے سامنے بیان دیا تھا
فائل فوٹو
امریکی اپیل عدالت نے جنسی زیادتی اور ہراسانی پر پاکستانی امریکن بزنس مین ضیاء چشتی کے ہتک عزت مقدمے کو خارج کرنے کے فیصلے کی توثیق کر دی۔
وفاقی اپیل عدالت نے ٹی آر جی پاکستان اور افینٹی کے سابق چیف ایگزیکٹو ضیاء چشتی کے ہتک عزت کے مقدمے کو خارج کرنے کی توثیق کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ان کے دعوے قانون کے مطابق ناکام ہیں۔امریکی اپیل کورٹ برائے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سرکٹ نے ستمبر 2024 میں ڈسٹرکٹ کورٹ برائے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے مقدمے کو “with prejudice” خارج کر دیا تھا، یعنی یہ ناقابل بحالی تھا، کیونکہ یہ امریکہ کےقوانین کے تحت آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔
یہ تنازع ٹاٹانیا سپورٹس ووڈ کی 2021 میں امریکی کانگریشنل کمیٹی کے سامنے دی گئی گواہی سے شروع ہوا۔ انہوں نے 2019 کے ایک آربٹریشن کیس کا ذکر کیا تھا جس میں وہ ضیاء چشتی کے خلاف دعووں پر کامیاب ہوئی تھی۔ اس کانگریشنل سماعت نے بعد میں امریکہ میں کام کی جگہ پر جنسی زیادتی اور جنسی ہراسانی کے کیسز کے لیے لازمی آربٹریشن ختم کرنے والے قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا۔
27 سالہ ٹاٹانیا سپوٹس ووڈ نے ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کے سامنے الزام لگایا تھا کہ ضیا چشتی نے 2017 میں برازیل میں ایک کاروباری دورے کے دوران جنسی تشدد کیا۔
ہاؤس کانگریس کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی آٹھ منٹ طویل ویڈیو میں ٹاٹیانا سپوٹس ووڈ بتاتی ہیں کہ وہ 12 یا 13 برس کی تھیں جب ان کی ضیا چشتی سے ملاقات ہوئی جو ان کے والد کے ساتھی اور دوست تھے۔ٹاٹیانا اپنے بیان میں کہتی ہیں کہ 2016 میں ضیا چشتی نے انھیں افینیٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے نوکری کی آفر کی اور اگلے 18 ماہ میں مسلسل ان پر سیکس کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور ٹاٹیانا کی جانب سے منع کرنے پر انھیں دیگر عملے کے سامنے بے عزت کیا۔
ٹاٹیانا نے اپنے ساتھ ہونے والے متعدد واقعات کا ذکر کیا جس میں ضیا بار بار ان پر جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔برازیل کے واقعے کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ نوکری کھونے کے خطرے کے باعث وہ بہت پریشان تھیں اور بالآخر جب ضیا کے کہنے پر وہ ان کے ہوٹل کے کمرے گئیں تو ضیا نے جنسی زیادتی کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا۔
ضیاء چشتی نے بعد میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا، الزام لگایا کہ سپورٹس ووڈ کی کانگریس میں گواہی، میڈیا انٹرویوز اور دیگر عوامی بیانات جھوٹے تھے اور آربٹریشن کے تحت رازداری کے معاہدے کی خلاف ورزی تھے۔
اپیلٹ عدالت نے ڈسٹرکٹ کورٹ کے اس نتیجے سے اتفاق کیا کہ ضیاء چشتی کے چیلنج کیے گئے بیانات امریکی قانون کے تحت محفوظ ہیں اور ان کے مقدمے میں قانونی طور پر قابل عمل ہتک عزت ثابت نہیں ہو سکی۔ عدالت نے آربٹریشن کے فیصلے کو اس مقدمے کے ذریعے دوبارہ چیلنج کرنے کی کوششوں کو بھی مسترد کر دیا۔
عدالت نے ضیاء چشتی کے برطانیہ میں ٹیلی گراف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر بھی روشنی ڈالی اور قرار دیا کہ اس معاہدے سے امریکی آربٹریشن کے نتائج تبدیل نہیں ہوتے اور نہ اس سے ان کے ہتک عزت کے دعووں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوئی بنیاد ملتی ہے۔
اپیلٹ عدالت کے اس فیصلے سے مقدمے کا اخراج برقرار رہ گیا ۔
2018 میں ستارہ امتیاز حاصل کرنے والے پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت ضیا چشتی 2021 اپنی ایک سابقہ ساتھی کی جانب سے جنسی ہراسانی اور تشدد کے سنگین الزامات کے بعد اپنی کمپنی افینیٹی سے مستعفی ہو گئے تھے۔ برمودا سے ضیا چشتی کی کمپنی کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھاکہ انہوں نے بطور چیئرمین، چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ڈائریکٹر استعفیٰ دے دیا ہے لیکن وہ اپنے اوپر عائد کیے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔لزامات کے سامنے آنے کے بعد سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی ضیا چشتی کی کمپنی افینیٹی سے استعفی دے دیا تھا جہاں وہ 2019 سے ایڈوائزری بورڈ کے چئیرپرسن کے عہدے پر فائز تھے۔