ایمنسٹی سمیت 13 تنظیموں کا پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ

صحافیوں کے خلاف تمام پی ای سی اے نوٹسز واپس لیے جائیں، مبہم دفعات منسوخ کی جائیں۔ خط

August 6, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد :ایمنسٹی انٹرنیشنل کی قیادت میں 13 مقامی اور بین الاقوامی سول سوسائٹی تنظیموں نے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی، پریس کی آزادی اور انسانی حقوق کی وکالت پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کا فوری خاتمہ کرے۔

خط میں صحافی اسد علی طور سمیت متعدد صحافیوں اور وکلا کے خلاف پی ای سی اے کے نوٹسز کا ذکر کیا گیا۔ تنظیموں نے منیزے جہانگیر، مطيع اللہ جان اور کاشف عباسی جیسے صحافیوں کو پروگراموں سے ہٹائے جانے کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔ اسی طرح وکلا ایمان مظاہری اور ہادی علی چٹھہ کی قید، پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں طویل انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے نئی پابندیوں پر بھی اعتراض کیا گیا۔

تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے خلاف تمام پی ای سی اے نوٹسز واپس لیے جائیں، مبہم دفعات منسوخ کی جائیں، میڈیا پر دباؤ ختم کیا جائے، قید میں موجود وکلاء کو رہا کیا جائے اور جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بحال کیا جائے۔

خط پر ایمنسٹی انٹرنیشنل، آرٹیکل 19، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی)، ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن اور دیگر 10 تنظیموں کے دستخط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی یا ‘جھوٹی معلومات’ کے بہانے اختلاف رائے کو جرم نہیں بنایا جا سکتا۔