خواتین کو ووٹر فہرستوں میں شامل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن متحرک
خواتین کو شناختی کارڈ اور ووٹر رجسٹریشن کی سہولت ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے خصوصی مہم جاری ہے۔الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں خواتین ووٹرز کی تعداد بڑھانے اور مرد و خواتین ووٹرز کے درمیان موجود صنفی فرق کم کرنے کے لیے خصوصی رجسٹریشن مہم میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اس مہم کے تحت موبائل رجسٹریشن وینز کے ذریعے دور دراز علاقوں سمیت ملک کے 62 اضلاع میں اہل خواتین کی ووٹر رجسٹریشن جاری ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو انتخابی فہرستوں میں شامل کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس خصوصی مہم کے دوران تقریباً 18 لاکھ نئی خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ادارہ ہر سال مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان موجود صنفی فرق میں کم از کم ایک فیصد کمی لانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2018 کے عام انتخابات کے بعد ووٹرز کے صنفی فرق میں بتدریج کمی آئی ہے اور یہ اب 7.74 فیصد تک رہ گیا ہے، تاہم اس فرق کو مزید کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ خواتین کو شناختی کارڈ اور ووٹر رجسٹریشن کی سہولت ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے خصوصی مہم جاری ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل خواتین انتخابی عمل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔