کشمیر کافیصلہ کشمیری کریں گے،بندوق اور دھرنے سےآئینی تبدیلی ممکن نہیں:بلاول

مظفر آباد میں پیپلزپارٹی کارکنوں سے خطاب، پرامن حل پر زور دیا گیا

July 15, 2026 · قومی

آزاد کمشیر کا بحران وفاقی وزراء کے بیانات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، اب وفاقی حکومت کو ہی بحران ختم کرنا ہے: بلاول بھٹو/ فوٹو: اسکرین گریب

مظفر آباد: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کریں گے، لیکن بندوق اور دھرنے کے زور پر کوئی آئینی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

مظفر آباد میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے خراب حالات سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا، موجودہ حالات میں معاملہ فہمی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کا بحران وفاقی وزراء کے بیانات کی وجہ سے پیدا ہوا، اب وفاقی حکومت کو ہی موجودہ بحران ختم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کے خلاف کوئی غلط زبان استعمال کرتا ہے تو ہمارا دل ٹوٹ جاتا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے کسی شخص کو یہ کہنے کی اجازت نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون کشمیری ہے اور کون نہیں۔ موجودہ حالات کا مقابلہ طاقت کے استعمال سے نہیں ہو سکتا، کشمیریوں کا پسینہ گرے گا تو ہمارا خون گرے گا۔

بلاول بھٹو نے مظاہرین سے احتجاج اور دھرنے ختم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے، لیکن پرتشدد احتجاج اور مظاہروں کی کسی صورت اجازت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ کشمیر میں دہشت گردی کی سیاست پروان چڑھے، بانی ایم کیو ایم نے کراچی میں جیسی سیاست کی، وہ کبھی کشمیر میں نہیں چاہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا پرامن حل نکالا جائے۔ پاکستان کے سیاست دانوں، کشمیر کے سیاست دانوں اور احتجاج کرنے والوں کو سوچنا چاہیے۔ کشمیریوں کا مسئلہ صرف آزاد کشمیر میں حل کرنے کے حق میں ہوں، تاہم دھرنے اور بندوق کے زور پر آئین میں ترمیم نہیں ہوسکتی۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، ان کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔ کوئی بھی کبھی بھی ریاست کو سرنگوں نہیں کرسکتا، امن قائم کرنے میں فیلڈ مارشل کا کردار سب کے سامنے ہے۔