میر رضا کی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل۔ شواہد اور نمونے حاصل
پروفیسر نسیم احمد کےمطابق بورڈ نےاپنا ٹاسک مکمل کر لیا،رپورٹ جلد متعلقہ حکام کوارسال کی جائےگی
فائل فوٹو
کراچی: میر رضا کیس میں قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کرلیا گیا، میڈیکل بورڈ نے ضروری شواہد ریکارڈ کرنے کے ساتھ مختلف نمونے بھی حاصل کرلیے۔
میڈیکل ٹیم کے رکن پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد کے مطابق میڈیکل بورڈ نے اپنا ٹاسک مکمل کرلیا ہے اور تمام سیمپلز حاصل کرلیے گئے ہیں۔ رپورٹس جلد از جلد مل جائیں گی جبکہ رپورٹ متعلقہ حکام کو بھیجی جائے گی۔
پروفیسر نسیم احمد نے بتایا کہ قبر کشائی کے دوران ضروری شواہد ریکارڈ کیے گئے اور مختلف نمونے حاصل کیے گئے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں جو سوالات اٹھائے گئے تھے، ان کے حوالے سے بھی شواہد ملے ہیں۔
جبران ناصر کے مطابق صبح 11 بج کر 7 منٹ پر قبر کشائی کا آغاز کیا گیا، جس کے بعد پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا۔ مرحوم کی میت سے مطلوبہ شواہد حاصل کرلیے گئے ہیں۔
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ پولیس سرجن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات میڈیکل بورڈ کو مل چکے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ آج شام تک جاری ہونے کا امکان ہے جبکہ حتمی رپورٹ کیمیکل ایگزامینیشن کے بعد مرتب ہوگی۔
ان کے مطابق میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے بعد خودکشی یا قتل سے متعلق اہم سوالات واضح ہوجائیں گے۔ رپورٹ سے معلوم ہوگا کہ زخم خود لگائے گئے یا کسی اور نے تشدد کیا۔ اگر قتل ثابت ہوا تو رپورٹ سے تشدد کی نوعیت اور ممکنہ ملزمان کی تعداد کا بھی اندازہ ہوگا۔
جبران ناصر نے کہا کہ حقائق سامنے آنے کے بعد افواہوں اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔
میر رضا کے والد نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ شام 6 بجے متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد تمام حقائق عوام کے سامنے آجائیں گے۔
میر رضا کے والد نے کہا کہ میڈیا کی مسلسل توجہ اور عوامی دباؤ سے کیس میں پیش رفت ممکن ہوئی۔ ڈاکٹرز کی ٹیم نے اپنی ذمہ داریاں مکمل کرلی ہیں اور اب رپورٹ کا انتظار ہے۔ انہوں نے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر اعتماد کا اظہار بھی کیا۔
آڈیو پیغام سے متعلق سوال پر میر رضا کے والد نے تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ آڈیو کی فرانزک تصدیق سامنے آنے تک کوئی رائے نہیں دے سکتے۔ ان کے مطابق غیر مصدقہ آڈیو پر بات کرنا مناسب نہیں۔