اسرائیلی فوج نے فلسطینی اتھارٹی کے کرنل کو گرفتار کرلیا

گرفتار کیے گئے کرنل کا نام مجدی عامر ہے، جبکہ اسرائیلی حکام نے اسے مطلوب شخص اور فتح تنظیم کا رکن قرار دیا ہے۔فلسطینی میڈیا

September 23, 2026 · بام دنیا
اسرائیلی فوج نے فلسطینی اتھارٹی کے کرنل کو گرفتار کرلیا

اسرائیلی فوج نے فلسطینی اتھارٹی کے کرنل کو گرفتار کرلیا

مغربی کنارے میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے فلسطینی اتھارٹی کی پریوینٹیو سیکیورٹی سروس کے ایک کرنل کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق کرنل پر مبینہ طور پر مسلح اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق کارروائی نابلس کے جنوب میں واقع علاقے کفر قلیل میں رات گئے کی گئی، جہاں خفیہ اہلکاروں نے ایک عمارت کو گھیرے میں لے کر مشتبہ شخص کو باہر آنے پر مجبور کیا۔ اسرائیلی پولیس نے اس کارروائی کو “پریشر ککر ٹیکٹک” قرار دیا ہے۔

فلسطینی میڈیا کے مطابق گرفتار کیے گئے کرنل کا نام مجدی عامر ہے، جبکہ اسرائیلی حکام نے اسے مطلوب شخص اور فتح تنظیم کا رکن قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال یہ نہیں بتایا گیا کہ کرنل مجدی عامر پر کسی مخصوص حملے یا کارروائی کی منصوبہ بندی کا کیا الزام ہے۔ اس معاملے پر فلسطینی اتھارٹی کا مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام نے نابلس سے تعلق رکھنے والے دو دیگر فلسطینیوں کے خلاف بھی فرد جرم عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی پولیس اور داخلی سیکیورٹی ادارے شین بیٹ کے مطابق دونوں افراد نے 2023 کے آخر سے مبینہ طور پر مسلح سرگرمیوں کو منظم کرنا شروع کیا تھا۔

اسرائیلی حکام کا الزام ہے کہ دونوں افراد نے دیگر افراد کو بھرتی کرنے، انہیں ہتھیار چلانے کی تربیت دینے اور رائفلوں و گولہ بارود کا انتظام کرنے کی کوشش کی۔

حکام کے مطابق دونوں افراد نے 2024 میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کو قتل کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی بھی کی۔ الزام کے مطابق ایک ویڈیو میں بن گویر کو ایک حملے کی جگہ پہنچتے دیکھنے کے بعد ایسا حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں انہیں موقع پر نشانہ بنایا جاسکے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق بعد ازاں ایک مشتبہ شخص نے بارودی مواد سے لیس ڈرون کے ذریعے حملہ کرنے کی تجویز دی اور مبینہ طور پر چین سے ڈرون کے پرزے حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔

دونوں فلسطینیوں پر اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کے خلاف کار بم دھماکے، ڈرون حملے، فائرنگ اور ایک فوجی کو اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ دونوں افراد زیر حراست ہیں اور اسرائیلی حکام نے ان کے نام ظاہر نہیں کیے۔

اتمار بن گویر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف یہ قتل کی منصوبہ بندی کا گیارہواں واقعہ ہے۔ تاہم یہ تعداد بن گویر کا ذاتی دعویٰ ہے اور اسے اس مخصوص مقدمے سے الگ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔