ایران امریکا تنازع، برینٹ خام تیل 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ امریکی کارروائیوں کے بعد مارکیٹ میں یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 0.4 فیصد اضافے کے بعد 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 80.02 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہنے یا خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل میں مزید رکاوٹ آنے کی صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو برینٹ خام تیل 110 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی توانائی کی منڈی، ایندھن کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر براہِ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔