ڈاکٹر آکاش قتل کیس، پولیس تفتیش میں گینگ کی وارداتوں سے متعلق اہم انکشافات
کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کراچی کے علاقے کلفٹن میں تین تلوار کے قریب فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر آکاش کے قتل کیس میں گرفتار ملزمان سے پولیس کی تفتیش جاری ہے، جس دوران واردات میں ملوث گروہ سے متعلق اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق واردات میں ملوث گینگ کا سرغنہ اسلم عرف بابا بتایا جا رہا ہے، جبکہ اس کے دیگر ساتھی بھی کراچی کے علاقے قائد آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ پولیس کے مطابق واردات کے وقت ایک خاتون بھی ملزمان کے ساتھ گاڑی میں موجود تھی جو مبینہ طور پر گینگ کا حصہ ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے واردات کے بعد لوٹی گئی رقم آپس میں تقسیم کر لی تھی۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ایک ملزم کو ایک لاکھ 25 ہزار روپے ملے، جو اس نے ایزی پیسہ کے ذریعے اپنے بھائی کو بھجوا دیے۔
پولیس کے مطابق دوسرے ملزم رام چند کے حصے میں 70 ہزار روپے آئے، جس میں سے اس نے 30 ہزار روپے مکان کے کرائے کی ادائیگی میں خرچ کیے۔
تفتیش کے دوران رام چند نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس کی ملاقات گینگ کے سرغنہ اسلم عرف بابا سے 2021 میں لانڈھی جیل میں ہوئی تھی، جہاں دونوں کی دوستی ہوئی اور بعد میں انہوں نے مل کر گروہ تشکیل دیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان کے گروہ نے مختصر عرصے میں بینکوں کے باہر سے متعدد وارداتیں کیں، جن میں شہریوں سے لاکھوں روپے چھینے گئے۔ پولیس نے مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
واقعے کی سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ملزم گاڑی کے قریب پہنچ کر فائرنگ کرتا ہے اور رقم والا بیگ لے کر فرار ہو جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوئے۔
28 سالہ ڈاکٹر آکاش جناح اسپتال کراچی میں بطور ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے تھے۔ واقعے کے بعد ان کے اہل خانہ نے امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔