اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں زخمی فلسطینی نوجوان فٹبالر انتقال کر گیا

فلسطین کی قومی انڈر 17 فٹبال ٹیم کی نمائندگی بھی کر چکے تھے۔ اہلِ خانہ کے مطابق وہ ایک ہفتے تک زیرِ علاج رہے

July 19, 2026 · بام دنیا

رام اللہ: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کے دوران زخمی ہونے والا 17 سالہ فلسطینی فٹبالر فادی حمداللہ النعسان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فادی النعسان مقامی المغیر فٹبال کلب کے کھلاڑی تھے اور فلسطین کی قومی انڈر 17 فٹبال ٹیم کی نمائندگی بھی کر چکے تھے۔ اہلِ خانہ کے مطابق وہ ایک ہفتے تک زیرِ علاج رہے، تاہم طبی کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہو سکے۔

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ فادی 11 جولائی کو المغیر گاؤں میں پیش آنے والے حملے کے دوران گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئے تھے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ان کی ران میں گولی لگنے کے باعث ڈاکٹروں کو ان کی ٹانگ کاٹنا پڑی، لیکن بعد ازاں وہ زخموں کی شدت کے باعث انتقال کر گئے۔

فادی کے والد حمداللہ النعسان نے بتایا کہ حملے کے دوران خواتین اور بچوں کی چیخ و پکار سن کر ان کا بیٹا متاثرہ افراد کی مدد کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچا، جہاں وہ فائرنگ کی زد میں آ گیا۔

ان کی والدہ حنان النعسان نے کہا کہ فادی نہ صرف ایک باصلاحیت فٹبالر تھے بلکہ تعلیم میں بھی نمایاں تھے اور اپنے گاؤں میں خوش اخلاقی کی وجہ سے سب میں مقبول تھے۔

ہفتے کے روز فادی النعسان کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ ان کا جسد خاکی رام اللہ کے فلسطین میڈیکل کمپلیکس سے ان کے آبائی گاؤں المغیر منتقل کیا گیا، جہاں انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔

فلسطینی سرکاری خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسی واقعے میں دو افراد ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہوئے، جبکہ ایک 10 سالہ بچے کے سر پر اسٹن گرینیڈ لگنے سے وہ بھی زخمی ہوا۔

اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد اور آبادکاروں کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے حال ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے میں 34 نئی آبادکاریوں کے قیام کے لیے بجٹ کی منظوری دی ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور متعدد ممالک ان بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں اور انہیں خطے میں امن کے لیے رکاوٹ سمجھتے ہیں۔