ٹرمپ کا دوٹوک اعلان، ایران مفاہمتی یادداشت توڑے یا نہ توڑے، پروا نہیں

امریکی پالیسی کی بنیادی ترجیح یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے

July 19, 2026 · اہم خبریں

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرنے کے اعلان کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

امریکی ٹی وی نیٹ ورک کو دیے گئے ایک مختصر ٹیلیفونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ سے ایران کے حالیہ مؤقف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں اس معاملے کی “بالکل بھی پروا نہیں”۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ امریکی پالیسی کی بنیادی ترجیح یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اپنے اس مؤقف پر قائم رہے گا اور قومی سلامتی سے متعلق پالیسی میں کوئی نرمی نہیں برتے گا۔

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مفاہمتی فریم ورک پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کی صورتحال کو کم کرنا تھا۔

تاہم حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز، بحری نقل و حمل اور علاقائی سلامتی سے متعلق اختلافات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد سفارتی پیش رفت بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے آنے والے سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی مستقبل میں نئی سفارتی اور سیکیورٹی آزمائشوں کا سبب بن سکتی ہے۔