امریکا ایران کشیدگی بڑھتے ہی برینٹ خام تیل 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
برینٹ خام تیل کے سودے 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ ہوتے رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی تیل کی منڈی پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور برینٹ خام تیل 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔
بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کے مطابق برینٹ خام تیل کے سودے 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ ہوتے رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں دو آئل ٹینکروں سے متعلق دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ ادھر برطانوی بحری تجارتی حکام نے بھی عمان کے قریب ایک بحری جہاز میں آتشزدگی کی اطلاع دی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے اور دنیا کے خام تیل کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی یا تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
ادھر پاکستان میں بھی حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو اس کے اثرات مقامی ایندھن کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔