ملک بھر میں شدید بارشیں،4 مزدور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں جاں بحق
مختلف علاقوں میں تیز بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں میں گاڑیاں بہہ گئیں، تاہم خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر لیا گیا
ملک کے مختلف علاقوں میں شدید مون سون بارشوں اور بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 4 مزدور جاں بحق اور متعدد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
خیبر کے مختلف علاقوں میں تیز بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں میں گاڑیاں بہہ گئیں، تاہم خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق بعض افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
دریائے چناب میں حافظ آباد کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ دوسری جانب لیہ میں دریائے سندھ کے کٹاؤ کے باعث فصلوں، مکانات اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
د شال نیوز بیړنی خبر
لنډي کوتل او جمرود کې د وریځو چاودېدو له امله سخت بارانونه او سېلابي وضعیت رامنځته شوی دی.
راپورونه وايي، د سېلاب اوبه ښايي په لنډ وخت کې د مترې خوړ له لارې تېرې شي.
د مترې خوړ او شاوخوا سیمو له اوسېدونکو غوښتنه کېږي چې له خوړ او ټیټو سیمو لرې پاتې شي،… pic.twitter.com/fMaU7QgO2B
— Shaal News (@shaalnewz) July 20, 2026
خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور دیگر علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعات کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جس سے مکانات، دکانوں، سڑکوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ وادی نیلم اور مانسہرہ کے بعض علاقوں میں اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے۔
حکام نے حساس علاقوں میں شہریوں اور سیاحوں کو دریاؤں اور ندی نالوں سے دور رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں، جبکہ ریسکیو ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
گلگت بلتستان کے علاقے نگر میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 4 مزدور ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے، جبکہ 3 افراد زخمی ہوئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مزدور شامل ہیں۔
ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور انتظامیہ نے مزید ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر رکھا ہے۔