ایران جنگ پر امریکا کے 37.5 ارب ڈالر خرچ، پینٹاگون نے مزید 87 ارب ڈالر کی منظوری مانگ لی

یہ رقم امریکی فوج کی آپریشنل صلاحیت برقرار رکھنے، اسلحہ و سازوسامان کی فراہمی اور فوجیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

July 22, 2026 · بام دنیا

امریکا کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری فوجی کارروائیوں پر اب تک تقریباً 37.5 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ پینٹاگون نے کانگریس سے مزید 87 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی منظوری کی درخواست کی ہے۔

سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ مجوزہ اضافی فنڈز میں سے 67 ارب ڈالر مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی آپریشنز کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ رقم امریکی فوج کی آپریشنل صلاحیت برقرار رکھنے، اسلحہ و سازوسامان کی فراہمی اور فوجیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیرِ دفاع نے خبردار کیا کہ اگر مطلوبہ فنڈنگ فراہم نہ کی گئی تو فوجی تربیت، سازوسامان کی فراہمی اور دیگر اہم دفاعی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اضافی بجٹ امریکی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

سماعت کے دوران جنگ مخالف مظاہرین نے متعدد بار احتجاج کیا، جبکہ اجلاس کے اختتام پر وزیرِ دفاع اور ایک سینیٹر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

ادھر ڈیموکریٹ ارکان نے اضافی دفاعی اخراجات پر سوالات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جنگی بجٹ میں مسلسل اضافہ ملکی معاشی ترجیحات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ بعض ارکان نے مطالبہ کیا کہ مزید فنڈنگ سے قبل جنگی اخراجات کی مکمل تفصیلات اور حکمت عملی واضح کی جائے۔

رپورٹس کے مطابق اپریل میں وائٹ ہاؤس نے آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً 1.5 کھرب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی درخواست بھی کانگریس کو ارسال کی تھی، جسے امریکی تاریخ کے بڑے دفاعی بجٹ میں شمار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال بدستور تناؤ کا شکار ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔