تہران میں فرانسیسی سفارتکاروں کے طرزِ عمل پر ایران کا احتجاج
دونوں وزرائے خارجہ نے اس موقع پر دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور دیگر بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کے طرزِ عمل پر اعتراض کرتے ہوئے اسے سفارتی اصولوں سے متصادم قرار دیا ہے اور فرانس سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں نوئل بارو سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس موقع پر دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور دیگر بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تمام غیر ملکی سفارتی مشنز پر لازم ہے کہ وہ میزبان ملک کے قوانین، ضوابط اور بین الاقوامی سفارتی اصولوں کی مکمل پابندی کریں۔ انہوں نے فرانس پر زور دیا کہ مستقبل میں اس نوعیت کے معاملات سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب فرانس نے اس معاملے پر مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ تہران میں تعینات دو فرانسیسی سفارتکاروں کو ایرانی سکیورٹی اداروں نے حراست میں لیا اور ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو کے مطابق دونوں سفارتکار ایران میں ثقافتی اور تعلیمی روابط کے فروغ کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
اس واقعے کے بعد فرانس کی وزارتِ خارجہ نے پیرس میں ایران کے ناظم الامور کو طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔