امریکہ سے ٹکرائو جاری رہنے کی صورت میں ایران کے2بڑے آپشنز

جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد تہران نے اپنی عسکری قیادت اور سوچ دونوں کو بدل دیا

July 23, 2026 · امت خاص

 

امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں میں تیزی آ رہی ہے۔ ایسے میں اب دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ایران یہ جنگ کتنے عرصے تک جاری رکھ سکتا ہے؟ اور اس بھیانک ٹکراؤ کا انجام کیا ہوگا؟

پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایران کی موجودہ حکمتِ عملی کیا ہے۔ مارچ 2026 میں ایرانی رہنما علی لاریجانی نے کہا تھا کہ وہ کم از کم 5 سال تک اس جنگ کو کھینچ سکتے ہیں۔ لیکن علی لاریجانی 17 مارچ کو اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔ کچھ عرصہ جنگ بندی ہوئی تو وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر اپریل کی جنگ بندی صرف دس دن پہلے ہو جاتی تو ایران کے پاس لاریجانی سمیت تین اہم رہنما ہوتے۔

عراقچی جیسے رہنما سمجھتے ہیں کہ جنگ جاری رہنے سے ایران کا نقصان ہو رہا ہے لیکن امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہ کرنے کے سبب لڑائی جاری ہے۔

جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد تہران نے اپنی جنگی قیادت اور سوچ دونوں کو بدل دیا ہے۔ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور پاسدارانِ انقلاب کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد اب ایران کسی مقررہ ٹائم لائن کے بجائے “طویل المدتی جنگ پر کاربند ہے جسے انگریزی میں War of Attrition کہتے ہیں۔

ایران کے پاس اس جنگ کو طول دینے کے لیے دو بڑے ہتھیار ہیں۔ پہلا: ہزاروں کی تعداد میں ڈرونز اور میزائلوں کی فوری مقامی پیداوار۔ اور دوسرا: “جغرافیائی پھیلاؤ” یعنی جنگ کو پورے خطے میں پھیلانا۔
مزید معلومات کے لیے وڈیودیکھیں۔