دہشت گردی کےپیچھے بھارت کا ہاتھ،بلوچستان میں ترقی کے لیے وسائل فراہم کریں گے :وزیراعظم

بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب، ترقیاتی منصوبوں اور امن پر حکومتی مؤقف

July 24, 2026 · قومی

فائل فوٹو

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی سازش کے تحت دوبارہ لائی گئی، دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو امن دشمن عناصر کو وسائل فراہم کر رہا ہے، افغان سرزمین بھی پاکستان کے خلاف  استعمال ہو رہی ہے۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغان حکومت سے بارہا کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے،تاہم افغان عبوری حکومت ان تنظیموں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2017 اور 2018 میں پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا تھا، تاہم بعد ازاں ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی دوبارہ لائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک 90 ہزار پاکستانی شہید ہو چکے ہیں،  مستونگ کے سیشن جج عبدالحکیم نے بھی گزشتہ روز جام شہادت نوش کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کی حفاظت کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں دشمن کو شکست فاش ہوئی،مؤثر سفارتکاری کے باعث دنیا خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

شہباز شریف نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھرپور وسائل فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام صوبے مساوی ترقی کریں گے تو ملک ترقی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ سڑک کا 300 ارب روپے کا منصوبہ آئندہ ڈیڑھ سے دو سال میں مکمل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو 150 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ دیگر صوبوں نے بھی بلوچستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ بلوچستان کے طلبہ کو لیپ ٹاپ اور وظائف کی تقسیم میں 10 فیصد اضافی کوٹہ دیا جا رہا ہے،  صوبے میں 9 دانش اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھی کینال منصوبے کو بھی تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 27 ہزار ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل کیے جا رہے ہیں، جس کے لیے 75 ارب روپے کے منصوبے میں وفاق نے 50 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل شفاف حکمرانی میں مضمر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال سیلز ٹیکس اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں 800 ارب روپے وصول کیے گئے،  ایف بی آر میں اصلاحات کے ذریعے محصولات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی ترقی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت اپنا کردار جاری رکھے گی تاکہ صوبے کے عوام کو ترقی اور خوشحالی کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔