مخالف گروہ سے شدید لڑائی کے دوران بھاری نقصانات اٹھاکر افغان طالبان پسپا۔کمانڈر ہلاک

افغانستان فریڈم فرنٹ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی

July 25, 2026 · امت خاص

 

افغان طالبان کی مخالف گروہوں سے شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں کے ضلع زیباک میں طالبان اور ان کے مخالف مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔

یہ لڑائی جمعرات کی شام شروع ہوئی تھی، جس کی تصدیق مقامی ذرائع اور میڈیا رپورٹس نے کی ہے۔ذرائع کے مطابق طالبان کی ایک سرحدی چوکی کے کمانڈر فرید اللہ وحدت توی خانہ کے علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

طالبان مخالف مسلح گروہوں نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ فرید اللہ وحدت کی لاش کی ہیں، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

بدخشاں میں طالبان کی عمر ثالث ڈویژن کے میڈیا دفتر نے جھڑپوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں طالبان مخالف پانچ مسلح افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ بیان کے مطابق مخالف جنگجو نقصانات اٹھانے کے بعد پسپا ہو گئے۔تاہم دونوں فریقوں کی جانب سے جاری کردہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب افغان فریڈم فرنٹ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جمعرات کی صبح سے ضلع زیباک میں طالبان کے ٹھکانوں پر اچانک حملے کیے۔تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس نے طالبان کو سرحدی بٹالین کے گرد کئی اہم چوکیوں اور پہاڑی مقامات سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا، طالبان کی جانب سے ان علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔

افغان فریڈم فرنٹ کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ داؤد ناجی نے افغان میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بدخشاں میں جاری لڑائی اب ایک نئے مرحلےمیں داخل ہو چکی ہے۔

یہ جھڑپیں چند روز قبل ہونے والے ایک اور حملے کے بعد سامنے آئی ہیں، جس کی ذمہ داری خود کومحاذِ وطن کے سپاہی کہنے والے ایک مسلح گروہ نے قبول کی تھی۔ اس گروہ نے بدخشاں کے علاقے یفتلِ سفلیٰ پر حملہ کیا تھا۔ حملہ آوروں نے چند گھنٹوں کے لیے مقامی انتظامیہ کی عمارت، پولیس ہیڈکوارٹر اور طالبان کے انٹیلی جنس دفتر پر قبضہ کر لیا تھا اور علاقے کی سرکاری عمارت پر اپنا پرچم بھی لہرا دیا تھا۔

بدخشاں میں طالبان حکام نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسلح افراد نے صوبائی دارالحکومت فیض آباد کے قریب واقع ضلعی مرکز پر حملہ کیا اور چند گھنٹوں تک اس پر قابض رہے۔

طالبان کے مطابق حملے کے وقت متعدد مقامی حکام جن میں ضلعی پولیس سربراہ بھی شامل تھے، چھٹی پر تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آوروں نے اندھیرے کی آڑ میں انتظامیہ اور پولیس کے دفاتر پر قبضہ کر لیا۔دریں اثنا ا داؤد ناجی نے بھی بدخشاں میں طالبان کے ایک ہیلی کاپٹر پر راکٹ حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔