نالہ ڈیک میں طغیانی، مریدکے اور گردونواح میں فصلیں زیر آب

سرخی: نالہ ڈیک میں طغیانی، مریدکے اور گردونواح میں فصلیں زیر آب، متاثرین کا کارروائی کا مطالبہ خبر: مریدکے: نالہ ڈیک میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث مریدکے کے نواحی علاقے خوشحال پورہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، جس کے نتیجے میں زرعی اراضی اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مقامی افراد نے محکمہ آبپاشی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اگر نالے اور اس سے منسلک گزرگاہوں کی بروقت صفائی کی جاتی تو پانی آبادیوں اور کھیتوں میں داخل نہ ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان کی فصل سیلابی پانی کی نذر ہو گئی، جس سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ متاثرہ دیہاتیوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ صفائی کے منصوبوں میں مبینہ غفلت یا بے ضابطگی کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے۔ دوسری جانب نارووال کے قریب کالا خطائی کے علاقے میں بھی موسلادھار بارشوں اور نالہ ڈیک کے بند کو نقصان پہنچنے کے بعد وسیع علاقے زیر آب آ گئے۔ سیلابی پانی ریلوے ٹریک کے اطراف تک پہنچ گیا، جبکہ متعدد رابطہ سڑکیں بھی پانی میں ڈوب گئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہزاروں ایکڑ پر کاشت کی گئی چاول کی فصل پانی میں ڈوب گئی ہے، جس سے کاشتکاروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں آمدورفت بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور شہریوں کو روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ متعلقہ ادارے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی اقدامات کے لیے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

July 27, 2026 · قومی

مریدکے: نالہ ڈیک میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث مریدکے کے نواحی علاقے خوشحال پورہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، جس کے نتیجے میں زرعی اراضی اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

مقامی افراد نے محکمہ آبپاشی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اگر نالے اور اس سے منسلک گزرگاہوں کی بروقت صفائی کی جاتی تو پانی آبادیوں اور کھیتوں میں داخل نہ ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان کی فصل سیلابی پانی کی نذر ہو گئی، جس سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

متاثرہ دیہاتیوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ صفائی کے منصوبوں میں مبینہ غفلت یا بے ضابطگی کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے۔

دوسری جانب نارووال کے قریب کالا خطائی کے علاقے میں بھی موسلادھار بارشوں اور نالہ ڈیک کے بند کو نقصان پہنچنے کے بعد وسیع علاقے زیر آب آ گئے۔ سیلابی پانی ریلوے ٹریک کے اطراف تک پہنچ گیا، جبکہ متعدد رابطہ سڑکیں بھی پانی میں ڈوب گئیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق ہزاروں ایکڑ پر کاشت کی گئی چاول کی فصل پانی میں ڈوب گئی ہے، جس سے کاشتکاروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں آمدورفت بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور شہریوں کو روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متعلقہ ادارے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی اقدامات کے لیے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔