تربت میں دہشتگرد عثمان سے والدہ کا لاتعلقی کا اعلان
خاندان کو کسی ایسی سرگرمی سے منسوب نہ کیا جائے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں
بلوچستان کے علاقے تربت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دہشتگرد عثمان کی والدہ نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کے خاندان کا عثمان کے کسی بھی فیصلے، سرگرمی یا اقدامات سے کوئی تعلق نہیں۔
پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے عثمان کی والدہ نے کہا کہ ان کا بیٹا کچھ عرصہ قبل اپنی مرضی سے گھر اور خاندان سے الگ ہو گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں عثمان کی جانب سے خاندان سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم اہلخانہ نے اس سے کسی قسم کا رابطہ برقرار نہیں رکھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ، ان کے شوہر اور خاندان کے دیگر افراد عثمان کے کسی بھی عمل کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عثمان نے اپنے فیصلے خود کیے اور ان فیصلوں کی تمام تر ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔
فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عثمان سے اہلخانہ کا لاتعلقی کا اعلان
فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں سے انکے اہلخانہ کا بھی کھلے عام نفرت اور لاتعلقی کا اظہار
کچھ عرصہ قبل عثمان اپنی مرضی سے اپنے گھر اور خاندان سے علیحدہ ہو گیا تھا۔
عثمان نے مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم میں… pic.twitter.com/XSsG3Imn70— PTV News (@PTVNewsOfficial) July 27, 2026
عثمان کی والدہ نے عوام کے سامنے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کو کسی ایسی سرگرمی سے منسوب نہ کیا جائے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاندان امن و قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے اور کسی بھی غیر قانونی یا پرتشدد عمل کی حمایت نہیں کرتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیٹے کی جانب سے کیے گئے کسی بھی اقدام کا جواب خاندان نہیں دے سکتا کیونکہ عثمان اپنے ذاتی فیصلوں کا خود ذمہ دار ہے۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشتگرد عناصر سے اہلخانہ کی جانب سے لاتعلقی کے اعلانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاشرہ شدت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف کھڑا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات دہشتگرد تنظیموں کے بیانیے کو کمزور کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ حکام کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی جاتی رہی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع متعلقہ اداروں کو فراہم کریں۔