کوٹ لکھپت جیل میں عالیہ حمزہ اورفلک جاوید پر مبینہ حملےکادعویٰ
صحافی کا جیل میں حملے کا الزام، سرکاری سطح پر تاحال تصدیق یا تردید نہیں
فائل فوٹو
لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں تحریک انصاف کی رہنما عالیہ حمزہ اور کارکن فلک جاوید پر مبینہ جان لیوا حملے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
اس حوالے سے صحافی زعیم لغاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ جیل کے اندر دونوں خواتین پر حملہ کیا گیا اور حملہ آور خواتین نے ان کے گلے دبانے کی کوشش کی۔
زعیم لغاری کی پوسٹ کے مطابق حملے میں ملوث خواتین مبینہ طور پر “مسلم لیگ (ن) زندہ باد” اور “مریم نواز زندہ باد” کے نعرے بھی لگا رہی تھیں۔تاہم اس دعوے کی تاحال کسی سرکاری ادارے یا جیل انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ عالیہ حمزہ صاحبہ کے تحفظ کی ذمہ دار ہیں۔ اس حملے کی شفاف تحقیقات فی الفور کی جائیں اور تمام عملہ جو مجرمانہ غفلت کا مرتکب ہوا برطرفُ کیا جائے۔ حملہ آور اور ذمہ دار عملے کیخلاف مقدمے درج کئے جائیں۔ عدالت میں عالیہ حمزہ صاحبہ کے طبی معائنے اور تحفظ کی درخواست خاندان کی مشاورت کے ساتھ دائر کی جائے گی۔
واضح رہے کہ عالیہ حمزہ تحریک انصاف کی سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی ہیں، جو حالیہ مہینوں میں مختلف مقدمات کے سلسلے میں گرفتار ہوئیں۔ ان کے خلاف امن عامہ، احتجاج، توڑ پھوڑ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور دیگر الزامات کے تحت مختلف شہروں میں مقدمات درج ہیں، جبکہ وہ متعدد مقدمات میں عدالتی کارروائیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔