افغان شہریوں کی غیر قانونی رجسٹریشن اور شناختی کارڈ بحالی میں ملوث افسران گرفتار

بڑے پیمانے پر کرپشن، نادرا افسر اور 3 سیکرٹریز حراست میں، لاکھوں روپے برآمد۔

October 2, 2026 · اہم خبریں
ایف آئی اے اور نادرا حکام کی جانب سے غیر قانونی دستاویزات اور افغان شہریوں کی رجسٹریشن کے خلاف جاری کارروائی کا منظر

ایف آئی اے اور نادرا حکام کی جانب سے غیر قانونی دستاویزات اور افغان شہریوں کی رجسٹریشن کے خلاف جاری کارروائی کا منظر

ملتان اور دیگر علاقوں میں افغان شہریوں کے غیر قانونی اندراج اور جعلی دستاویزات کے ذریعے پاکستانی شناخت حاصل کرنے کے خلاف ایف آئی اے نے سخت کارروائیاں کرتے ہوئے نادرا کے ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان غیر قانونی طور پر افغان شہریوں کو برتھ سرٹیفکیٹس اور شناختی کارڈز جاری کرنے میں ملوث تھے۔

ترجمان ایف آئی اے زون کے مطابق افغان شہریوں کے غیر قانونی اندراج کے الزام میں مختلف یونین کونسلز کے 3 سیکرٹریز ملک خورشید، محمد جعفر اور عبدالجبار کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان کے خلاف ایف آئی اے اے سی سی ملتان میں باضابطہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے افغان شہریوں کو نادرا ڈیٹا بیس میں غیر قانونی طور پر رجسٹر کیا اور انہیں برتھ سرٹیفکیٹس جاری کیے، جن کی بنیاد پر ان غیر ملکیوں نے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کے ذریعے پاکستانی شہریت اور شناختی کارڈز حاصل کرنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب ایک اور کارروائی میں ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ (سی ٹی ڈبلیو) نے افغان شہریوں کے منسوخ شدہ شناختی کارڈ بحال کرنے کی غرض سے 12 کروڑ روپے رشوت لینے والے نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آفتاب کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق ملزم نے 51 افغان شہریوں کے منسوخ کارڈز کی بحالی کے لیے یہ خطیر رقم وصول کی تھی۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد ملزم آفتاب کے گھر پر چھاپا مارا گیا جہاں سے 19 لاکھ روپے نقدی برآمد کی گئی۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نے کرپشن کی اس رقم سے حویلیاں اور اسلام آباد کے سیکٹر جی 15 میں قیمتی پلاٹ خریدے ہیں۔ ایف آئی اے نے ملزم کی نشاندہی پر خریدے گئے پلاٹوں کی ملکیت کی دستاویزات بھی حاصل کر لی ہیں جبکہ دونوں مقدمات میں گرفتار تمام ملزمان سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔