روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت میں خود انحصاری حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیاہے:شزا فاطمہ

وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن پر عمل کر رہی ہے، جس کا مقصد ٹیکنالوجی کو قومی ترقی، روزگار کے مواقع اور معاشی بہتری کا ذریعہ بنانا ہے۔

July 28, 2026 · قومی

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں خود انحصاری حاصل کرنے کا قومی فیصلہ کر لیا ہے اور ملک جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ انڈس روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز ایکسپو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن پر عمل کر رہی ہے، جس کا مقصد ٹیکنالوجی کو قومی ترقی، روزگار کے مواقع اور معاشی بہتری کا ذریعہ بنانا ہے۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت اور ذہین ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں روبوٹکس اور اے آئی صنعت، زراعت، لاجسٹکس، انفراسٹرکچر، قدرتی آفات سے نمٹنے اور قومی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں وہی ممالک ترقی کی دوڑ میں آگے ہوں گے جو جدید ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کریں گے۔ پاکستان نے صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک بننے کے بجائے اس شعبے میں قیادت کا راستہ اختیار کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ رواں سال پاکستان کی آئی سی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ سائبر سیکیورٹی، ای گورنمنٹ اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے عالمی اشاریوں میں بھی ملک کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، اسٹارٹ اپس، تحقیق اور نوجوانوں کی جدید مہارتوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ رواں سال تقریباً 10 لاکھ نوجوانوں کو بنیادی ڈیجیٹل تربیت سے لے کر سیمی کنڈکٹر اور چپ ڈیزائن جیسے جدید شعبوں تک تربیت فراہم کی گئی۔

شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی اور نیشنل اے آئی انیشی ایٹو کے تحت ڈیٹا، کمپیوٹنگ صلاحیت، محفوظ انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روبوٹکس کے فروغ کے لیے سنٹرز آف ایکسیلنس، عملی تجرباتی مراکز، اسٹارٹ اپس کے لیے مالی معاونت، سرکاری سطح پر مواقع اور عالمی اداروں کے ساتھ ٹیکنالوجی شراکت داری ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اب صرف جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی میں ملکی مہارت اور اختیار بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبے ملک کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔