بھارتی سپریم کورٹ کا احتجاجی طلبہ کو تحفظ دینے سے انکار
سپریم کورٹ نے احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے تمام نابالغ افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم بھی دیا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے احتجاجی طلبہ کو مکمل قانونی تحفظ دینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔
چیف جسٹس سری کانت کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف بلاجواز طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا، تاہم جن افراد پر مجرمانہ واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، انہیں قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔
سپریم کورٹ نے احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے تمام نابالغ افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم بھی دیا۔
عدالت نے مزید کہا کہ تحقیقات شفاف انداز میں ہونی چاہئیں اور احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے 200 سے زائد پولیس اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے تحفظات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے کیس میں مزید کارروائی کے لیے 6 ریاستوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔