انتخابات پرامن رہے،عوام کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے، رانا ثناء اللہ

امید ہے منتخب نمائندے عوامی مسائل کے حل اور خطے کی ترقی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔

July 28, 2026 · قومی

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) کو نمایاں برتری حاصل ہوئی ہے، جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کو عوام کے فیصلے اور مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے انتخابات میں کامیاب ہونے والے تمام امیدواروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ امید ہے منتخب نمائندے عوامی مسائل کے حل اور خطے کی ترقی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کے دوران ووٹرز کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھایا گیا، جبکہ الیکشن کمیشن، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے پرامن اور منظم انتخابات کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔

رانا ثناء اللہ کے مطابق میرپور ڈویژن میں پیش آنے والا افسوسناک فائرنگ کا واقعہ دو گروپوں کے پرانے خاندانی تنازع کا نتیجہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے، جبکہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے ایک مقدمے میں بھی متعلقہ امیدوار کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا کہ انتخابات کا پرامن انعقاد خوش آئند ہے اور عوام نے بھرپور انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کو کارکنوں کی محنت، منظم انتخابی مہم اور عوامی اعتماد کا نتیجہ قرار دیا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی انتخابی حکمت عملی، مضبوط تنظیم اور قائد نواز شریف کی انتخابی مہم میں شرکت نے پارٹی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق نواز شریف نے آزاد کشمیر کے عوامی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دینے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی نے بھی آزاد کشمیر کے عوام میں اعتماد پیدا کیا ہے اور عوام ترقیاتی منصوبوں کا تسلسل چاہتے ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے زور دیا کہ جمہوریت میں عوام کا فیصلہ ہی سب سے اہم ہوتا ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی نتائج کو کھلے دل سے قبول کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، تاہم انتخابات کے بعد آئینی اور جمہوری روایات کے مطابق آگے بڑھنا ہی ملکی مفاد میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی معاملے میں تحقیقات یا قانونی کارروائی کی ضرورت پیش آئی تو متعلقہ ادارے قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کریں گے، جبکہ سیاسی معاملات کو آئینی دائرے اور جمہوری اصولوں کے مطابق آگے بڑھایا جانا چاہیے۔