راولاکوٹ واقعات: اسنائپرز اور جدید ہتھیاروں کا استعمال پُرامن احتجاج نہیں ، پولیس ترجمان
راولاکوٹ واقعات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لینے کا مطالبہ، سوشل میڈیا ویڈیوز گمراہ کن قرار
فائل فوٹو
آزاد جموں و کشمیر پولیس کے ترجمان اور ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا ہے کہ راولاکوٹ میں پیش آنے والے واقعات کے حقائق جاننے کے لیے غیرجانبدارانہ جائزہ ناگزیر ہے، کیونکہ بظاہر پُرامن احتجاج کا دعویٰ کرنے والے بعض عناصر کے درمیان مسلح افراد بھی موجود ہیں، جو پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ اگر کوئی غیرجانبدار شخص موقع پر جا کر صورتحال کا جائزہ لے تو اسے زمینی حقائق واضح طور پر نظر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں شہریوں کی تلاشی لی جا رہی ہے، شناختی کارڈ چیک کیے جا رہے ہیں اور عام لوگوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض افراد سفید جھنڈے اٹھا کر خود کو پُرامن مارچ کا حصہ ظاہر کرتے ہیں، تاہم انہی کے درمیان ایسے عناصر بھی موجود ہیں جن کے پاس اسلحہ ہے اور جنہوں نے پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ اگر کسی گروہ کے پاس ہتھیار موجود ہوں اور وہ انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف استعمال کرے تو ایسی سرگرمی کو پُرامن احتجاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف پرانے یا غیر متعلقہ واقعات کی ویڈیوز کو موجودہ صورتحال سے جوڑ کر عوام میں غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں، انہیں یرغمال بنانے اور ان کے شناختی کارڈ لینے جیسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بعض عناصر نے سنائپرز اور جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا، جبکہ کارروائیوں کے دوران اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق اگر کوئی گروہ ہتھیاروں کے ساتھ سڑکوں پر نکلتا ہے تو وہ نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ عام شہریوں کی جانوں کے لیے بھی خطرہ بنتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ سرگرمیوں میں دہشت گردی کا عنصر بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر رات کے وقت اہلکاروں پر حملے، فائرنگ اور تشدد کے واقعات پیش آئے، جبکہ اسپتال میں ایک لاش کے ساتھ مبینہ بے حرمتی اور اس کی آنکھیں نکالنے کی کوشش کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔
ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ بعض اوقات نقصان اپنے ہی لوگوں کی کارروائیوں سے ہوتا ہے، تاہم اس کا الزام قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں کے بجائے زمینی حقائق اور مکمل صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے رائے قائم کریں۔
انہوں نے گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق 11 مئی 2024 کے احتجاج کے دوران ایک سب انسپکٹر شہید، 60 اہلکار شدید جبکہ 174 اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ 2025 کے دوران تین اہلکار شہید، 52 شدید اور 357 معمولی زخمی ہوئے، جبکہ 2026 میں اب تک 21 اہلکار شہید، 157 شدید زخمی اور 629 اہلکار معمولی زخمی ہو چکے ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ ریاستی اداروں اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ حقائق کو سامنے رکھا جائے اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل زمینی صورتحال کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ بعض عناصر کی سرگرمیاں دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں اور انہیں محض پُرامن احتجاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔