حملے میں تعاون جارحیت تصور ہوگا،عباس عراقچی کا برطانیہ کو پیغام

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر تمام ممالک کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

August 1, 2026 · بام دنیا

تہران: ایران نے برطانیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی میں تعاون یا سہولت فراہم کرنا ناقابلِ قبول ہوگا اور اس کے قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران واضح کیا کہ کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے کسی ریاست کی سرزمین یا فوجی تنصیبات کے استعمال کی اجازت بین الاقوامی قانون کے تحت جارحیت کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں متاثرہ ملک کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔

بیان کے مطابق عباس عراقچی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر تمام ممالک کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے گفتگو کے دوران کہا کہ برطانیہ ایران کے خلاف کسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور موجودہ بحران کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ہی مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔

ادھر برطانوی حکومت کی جانب سے اس ٹیلی فونک رابطے کی تفصیلات پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

دریں اثنا، ایڈ ملی بینڈ نے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔