برقع پوش اورکلہاڑی بردار ملزمان کی بینک ڈکیتی کوشش ناکام،سائرن بجتے ہی فرار

گارڈ زخمی، رقم لوٹے بغیر فرار، پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردیں

August 1, 2026 · قومی

فائل فوٹو

 

کراچی کے ضلع سینٹرل میں بینک ڈکیتی کی ایک اور کوشش ناکام بنا دی گئی، جہاں برقع پہن کر اور کلہاڑیاں اٹھائے ملزمان سائرن بجنے پر رقم لوٹے بغیر فرار ہوگئے۔

پولیس کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر خواتین کے روپ میں برقع پہن کر بینک میں داخل ہوئے۔ انہوں نے بینک کے گارڈ امتیاز علی کو تشدد کا نشانہ بنایا، اس سے اسلحہ چھینا اور گارڈ کو زخمی کردیا۔

واقعے کا مقدمہ بینک منیجر کی مدعیت میں بلال کالونی تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے کے مطابق گزشتہ روز تقریباً پونے ایک بجے دو افراد اور ایک برقع پوش شخص برانچ کے گیٹ پر آئے۔ گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد وہ بینک میں داخل ہوگئے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ برقع پہنے ملزم نے اپنے بیگ سے پستول اور کلہاڑی نکالی اور گارڈ پر فائرنگ کردی، جبکہ اس کے دوسرے ساتھی نے کلہاڑی سے کاؤنٹر کا شیشہ توڑ دیا۔ اسی دوران آپریشن منیجر فرخ نے سائرن کا بٹن دبا دیا، جس کے بجتے ہی تینوں ملزمان گھبرا گئے اور ادھر اُدھر بھاگنے لگے، جبکہ بینک کا عملہ خوف کے باعث اپنی میزوں کے نیچے چھپ گیا۔

بعد ازاں دونوں ہیلمٹ پہنے افراد اور برقع پوش ملزم موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر فرار ہوگئے۔ مدعی کے مطابق دو نامعلوم ملزمان اور ایک برقع پوش ملزم، جو لہجے سے مرد معلوم ہوتا تھا، بینک میں داخل ہوئے، فائرنگ کی، گارڈ کو زخمی کیا اور فرار ہوگئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان گارڈ کو زخمی کرنے کے باوجود بینک سے کوئی رقم لوٹے بغیر فرار ہوئے۔ مقدمہ درج کرنے کے بعد تفتیش اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے حوالے کردی گئی ہے۔

پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرلی ہیں، ملزمان کا روٹ میپ تیار کیا جا رہا ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔