وزیر داخلہ کو 4، 5 سال بعد احساس ہوا کہ ملک نہیں چل رہا،شاہد خاقان عباسی

اصلاحات، رول آف لاء، مہنگائی اور معیشت پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا

August 1, 2026 · قومی

فائل فوٹو

عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملکی صورتحال پر حکومت کے اپنے نمائندوں نے بھی آواز اٹھانا شروع کردی ہے، جبکہ وزیر داخلہ کو 4، 5 سال بعد احساس ہوا کہ ملک نہیں چل رہا، حالانکہ پاکستان کے عوام گزشتہ 4، 5 سال سے یہی بات کہہ رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزراء کو چاہیے کہ یہ بات اب کابینہ کے اجلاس میں کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، تاہم ریفارمز سطحی نہیں ہونی چاہئیں، کیونکہ ہر سال نیا تجربہ کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول نظام کی تبدیلی اور رول آف لاء ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سارے سیاستدان کرپٹ ہیں تو پھر ملک کون چلائے گا؟ انہوں نے کہا کہ دو بڑے پارٹنرز ملک چلا رہے ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گزشتہ 6 سال کے دوران پاکستان کے عوام کی آمدن میں کمی آئی ہے، ہر گھر کی قوت خرید میں 14 فیصد کمی ہوئی ہے اور اب ہر گھرانہ غریب ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بیروزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، ہر پاکستانی سالانہ اوسطاً 60 ہزار روپے ٹیکس ادا کرتا ہے، جبکہ چند سال پہلے یہ رقم 30 ہزار روپے تھی۔ ان کے مطابق ملک میں غربت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی کیونکہ کوئی واضح پالیسی موجود نہیں، جبکہ حکومت صرف ٹیکس لگانا جانتی ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کب نئے ٹیکس عائد کر دیے جائیں۔

سربراہ عوام پاکستان پارٹی نے مزید کہا کہ ملک میں 8 ہزار بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہیں، حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا شروع کردی ہے، ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان بیرون ملک سے گندم خرید رہا ہے، جبکہ بجلی، گیس، پیٹرول اور ڈیزل سمیت ہر چیز مہنگی ہوچکی ہے، اور دنیا میں کسی اور ملک کی ایسی صورتحال نہیں۔