پاکستان نے ایران کی کیسے کیسے مدد کی، مشاہد حسین نے ایرانیوں کو تاریخ یاد دلا دی
پاکستان نے کئی مواقع پر ایران کے حوالے سے اپنے مؤقف کو واضح رکھا اور علاقائی کشیدگی میں مذاکرات اور امن کے راستے کی حمایت کی۔
اسلام آباد: سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان اور ایران کے تاریخی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی احترام، تعاون اور مشکل وقت میں ساتھ دینے کی تاریخ رکھتے ہیں۔
مشاہد حسین سید نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے مختلف ادوار میں ایران کے ساتھ سفارتی اور سیاسی تعاون کیا اور دونوں ممالک نے علاقائی چیلنجز کے باوجود تعلقات برقرار رکھے۔
انہوں نے ماضی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کئی مواقع پر ایران کے حوالے سے اپنے مؤقف کو واضح رکھا اور علاقائی کشیدگی میں مذاکرات اور امن کے راستے کی حمایت کی۔
مشاہد حسین کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان عوامی، ثقافتی اور تاریخی روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جبکہ دونوں ممالک نے مختلف مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کی خیر سگالی کی پالیسی کسی ایک حکومت یا گروہ تک محدود نہیں بلکہ ریاستی سطح پر طویل عرصے سے جاری ہے۔
سابق سینیٹر نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو ماضی کے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں بھی باہمی تعاون، تجارت اور علاقائی امن کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔